رسائی کے لنکس

لیبیا کے خلاف اقدام: قیادت جلدکسی کے حوالےکردی جائے گی: وائٹ ہاؤس


لیبیا کے خلاف اقدام: قیادت جلدکسی کے حوالےکردی جائے گی: وائٹ ہاؤس

لیبیا کے خلاف اقدام: قیادت جلدکسی کے حوالےکردی جائے گی: وائٹ ہاؤس

جمعرات کے روز پینٹگان میں امریکی وائس ایڈمرل ولیم گورٹنی نے کہا کہ کمان میں تبدیلی کے بعد بھی لیبیا میں امریکی فضائی کارروائیاں جاری رہیں گی

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہےکہ امریکہ پُراعتماد ہے کہ وہ بہت جلد لیبیا کےخلاف بین الاقوامی کارروائی کی سربراہی کسی اورکے حوالے کردے گا۔

جمعرات کے دِن ترجمان جےکارنی نےبتایا کہ کنٹرول کی منتقلی ہفتوں کا نہیں، دِنوں کا معاملہ ہے۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ کارروائی کے اگلے مرحلےکے دوران بھی امریکہ اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، تاہم نو فلائی زون کے نفاذ کی قیادت نہیں کرے گا۔

نو فلائی زون کی ذمہ داری کس کےحوالے ہوگی اِس بات پر غور کرنے کے لیے نیٹو رکن ممالک اجلاس کرتے رہے ہیں، جسے اقوام متحدہ کی توثیق سے سولینز کو تحفظ دینے کی غرض سےتشکیل دیا گیا تھا۔
جمعرات کے روز پینٹگان میں امریکی وائس ایڈمرل ولیم گورٹنی نے کہا کہ کمان میں تبدیلی کے بعد بھی لیبیا میں امریکی فضائی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکی افواج فضائی حملوں کے مشن، اوردیگر غیر فوجی پروازوں کے علاوہ ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکروں کے ذریعے اتحادی فوجوں کی حمایت جاری رکھیں گی۔
کچھ امریکی قانون سازوں نے لیبیا کے خلاف کارروائی میں امریکی فوج کو ملوث کرنے سے قبل اجازت حاصل نہ کرنے پر صدر براک اوباما پر تنقید کی ہے۔

بدھ کے دِن صدر کوبھیجے گئے ایک مراسلے میں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ری پبلیکن پارٹی کے اعلیٰ نمائندے جان بینر نے کارروائی کے اہداف اور اخراجات کی تفاصیل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ مسٹر اوباما نے قانون سازوں سے مشورہ کیا ہے اور ایسا ہی کرتے رہیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ اگر مسٹر اوباما نے کانگریس کا انتظار کیا ہوتا جو اِس ہفتے تعطیل پر ہے تو اُس صورت میں لیبیائی لیڈر معمر قذافی کی افواج نے بن غازی کا کنٹرول حاصل کر لیا ہوتا اور نتیجے میں متعدد لوگ ہلاک ہو گئے ہوتے۔

XS
SM
MD
LG