رسائی کے لنکس

آخری دم تک مقابلہ کریں گے: قذافی کےبیٹے کا اعلان


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سیف الاسلام قذافی نے عہد کیا کہ وہ اور اُن کے خاندان کے افراد آخری دم تک لڑیں گے اور یہ کہ اُن میں سے کوئی بھی ہتھیار نہیں ڈالے گا

بدھ کی شام گئے لیبیا کے سابق لیڈر معمر قذافی کے ایک بیٹے نے شام کے ٹیلی ویژن اسٹیشن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اُن کے والد طرابلس سے باہر مضافات میں موجود ہیں اور’ ٹھیک ہیں‘۔

سیف الاسلام قذافی نے عہد کیا کہ وہ اور اُن کے خاندان کے افراد آخری دم تک لڑیں گے اور یہ کہ اُن میں سے کوئی بھی ہتھیار نہیں ڈالے گا۔

اُنھوں نے قذافی کے حامی’ الرائے‘ سیٹلائٹ ٹیلیویژن اسٹیشن کو بتایا کہ وفادار لڑاکوں کے حوصلے بلند ہیں۔

مخالفت پر آمادہ اُن کا یہ بیان اپنے بھائی السعدی کے برعکس ہے جِنھوں نے ’العربیہ‘ ٹیلی ویژن کو بتایا تھاکہ خون خرا بہ بند کرنے کے لیے وہ قذافی مخالف فورسز سے بات چیت اور صلح صفائی کرانے کے لیے تیار ہیں۔

بدھ کے ہی روز موصولہ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر قذافی کے وزیرِ خارجہ عبدی العبیدی طرابلس کے مغرب میں ایک دیہات سے زیرِ حراست ٕمیں لیے گئے ہیں۔ گرفتاری کا اعلان ایک قذافی مخالف اعلیٰ کمانڈر نے کیا، اور یہ واقعہ رائٹرز سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کے سامنے پیش آیا۔

دریں اثنا، یورپی یونین کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ متعدد لیبیائی بندرگاہوں، تیل کی کمپنیوں اور درجن سے زائد دیگر اداروں پر سے عائد تعزیرات جمعے تک اٹھائی جاسکتی ہیں۔


عام معاشی سرگرمیاں شروع کرنے میں لیبیا کی قومی عبوری کونسل کو مدد دینے کی غرض سے یورپی یونین کے 27ارکان نے بدھ کو ابتدائی سمجھوتہ طے کیا ہے۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اُنھیں توقع ہے کہ جمعرات تک حتمی سمجھوتا ہوجائے گا۔

فرانس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تعزیراتی کمیٹی سے کہا ہے کہ پیرس کو اجازت دی جائے کہ وہ دو ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے جاری کردے۔

فوری نوعیت کی انسانی ہمدردی کی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطرتعزیراتی کمیٹی نےتین ارب ڈالر سے زائد مالیت کےمنجمد اثاثے جاری کر نےکے لیے برطانیہ اور امریکہ کی پیش کردہ اِسی طرح کی اپیلوں کی پہلے ہی منظوری دےدی ہے۔

XS
SM
MD
LG