رسائی کے لنکس

لیبیا جنگ کا نشانہ بننے والے صحافی اور فلم ساز ٹم ہیتھرنگٹن

  • پینی لوپولو

لیبیا جنگ کا نشانہ بننے والے صحافی اور فلم ساز ٹم ہیتھرنگٹن

لیبیا جنگ کا نشانہ بننے والے صحافی اور فلم ساز ٹم ہیتھرنگٹن

لیبیا میں سرکاری افواج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کی رپورٹنگ کے دوران حال ہی میں مغربی میڈیا سے تعلق رکھنے والے دو صحافی بھی مارے گئے۔ ہلاک ہونے والے صحافیوں میں سے ایک ٹم ہیتھرنگٹن گزشتہ سال ، افغانستان میں امریکی فوجیوں اور طالبان کے درمیان لڑائی کے موضوع پر بننے والی ایک دستاویزی فلم ریسٹریپوکے ڈائریکٹر تھے۔

گزشتہ بدھ کے دن لیبیا کے شہر مصراتہ میں ہونے والی جھڑپوں میں ایک راکٹ کی زد میں آکر چار صحافی زخمی ہوگئے تھے جن میں سے بعدازاں دو صحافی اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔ جن میں ایک کرس ہنڈوروس کا تعلق امریکی صحافتی ادارے گیٹی امیجز سے تھا ۔ جبکہ دوسرا صحافی ایک برطانیہ کے ایک فلم ساز ٹم ہیتھرنگٹن تھے۔

ٹم ہیتھرنگٹن کی فلم ریسٹریپو کو سال 2010 ءمیں سن دانس فلم فیسٹیول میں بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ ملا تھا اور بعد میں یہ فلم آسکر ایوارڈ کے لیے بھی نامزد ہوئی ۔

ٹم نے یہ فلم سال 2007ءاور 2008ء کے دوران مشرقی افغانستان کے علاقے کورینگل وادی میں بنائی تھی جہاں اُس وقت شدیدلڑائی جاری تھی۔ ٹم اور ن کے ساتھی سابسٹین جنگر نے کئی مہینے تک وہاں رہ کر امریکی فوجیوں اور طالبان کے درمیان ہونے والی لڑائی کو فلم بند کیا۔

اپنی فلم میں انہوں نے ایک امریکی فوجی کی ہلاکت اور ریسٹریپو نامی چوکی واپس لینے کی خاطر لڑی جانے والی جنگ میں امید اور خوف کی کیفیتوں کی عکاسی کی تھی۔

ہیتھرنگٹن اور ان کی ٹیم کو لڑائی کے دوران اتنے قریب سے امریکی فوجیوں کی زندگی دکھانے پر بہت سراہا گیا۔ہیتھرنگٹن نےسن ڈانس فلم فیسٹیول کے دوران وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے یہ فلم ان امریکیوں کے لیے بنائی ہے جن کے خاندان کے افراد اس طرح کی جنگوں میں حصہ لیتے ہیں۔

انہوں نے کہاتھا کہ امریکہ میں تقریبا 2 کروڑ سے زیادہ ایسے افراد ہیں جنھوں نے خود یا ان کے خاندان کا کو کوئی فرد فوج میں کام کرچکاہے یا کر رہاہے۔ اور انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کے عزیز اوقارب ، بھائی بہن، ماں باپ یا رشتے دار وہاں کن کٹھن حالات اور مشکلات سے گزرتے ہیں۔ تو قع ہے کہ یہ فلم میدان جنگ میں پیش آنے والی کیفیات سے انہیں باخبر کرے گی۔

ٹم کا کہنا ہے کہ فوجیوں کی طرح انھیں بھی یہ محسوس ہوا کہ وہ بھی اس جنگ زدہ ماحول کے عادی ہوتے جارہے تھے۔

ٹم کا کہناتھا کہ لوگ فلم دیکھ کر سوچتے ہیں کہ افغانستان میں فلم بنانا کتنا مشکل ہوگا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ فوجی میدان جنگ میں ہوں۔ لیکن وہاں یہ آسان معلوم ہوتا ہے۔ یعنی میرے لیے اپنی زندگی میں واپس آنا وہاں کام کرنے سے زیادہ مشکل تھا۔

ٹم ہیتھرنگٹن کا کہنا تھا کہ اس فلم سے ان کا مقصد ان لوگوں کی قربانیاں دکھانا تھا جو ہمارے لیے لڑتے ہیں۔اور اس فلم کا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک غیر سیاسی فلم ہے۔ فلم میں جنگ کے صحیح یا غلط ہونے کی بات نہیں کی گئی۔ بات صرف یہ ہے کہ ہمارے ملک کے لیے لڑ نے والے جوان ، خواہ وہ کہیں بھی ہوں ، ان کی کہانی پیش کی جانی چاہیے ، اور یہی اس فلم کا مقصد تھا۔

XS
SM
MD
LG