رسائی کے لنکس

مشتبہ اغوا کار سابق باغی ہیں جو اب لیبیا کی حکومت کا ایک حصہ ہیں

لیبیا کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اُن کو مختصر وقت کے لیے یرغمال بنائے رکھنا حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک ناکام کوشش تھی۔

جمعے کے روز طرابلس میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم علی زیدان نے اپنے اغوا کاروں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں کچھ دیر تک پکڑ کر رکھنا دراصل اُن کے سیاسی مخالفین کی طرف سے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی ایک کوشش تھی۔

مشتبہ اغوا کار سابق باغی ہیں جو اب لیبیا کی حکومت کا ایک حصہ ہیں۔ اُنھوں نے یہ کارروائی امریکہ کی خصوصی افواج کی طرف سے طرابلس میں کیے جانے والے آپریشن ، جس میں القاعدہ کے مشتبہ سرغنے ابو انس اللبی کو پکڑا گیا، اُس کے جواب میں کی۔

اغوا کاروں نے کہا ہے کہ اُنھیں اس بات پر مایوسی ہوئی کہ حکومت نے امریکی چھاپے کی اجازت دی، اور اس کا حصہ بنے۔

تاہم، وزیر اعظم زیدان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ سازش کچھ دِن پہلے تیار کی گئی تھی، جس میں لیبیا کے کچھ سینئر قانون ساز بھی ملوث تھے۔

زیدان انسانی حقوق سے وابستہ ایک سابق وکیل رہے ہیں، جنھوں نے 1980ء میں یورپ جلا وطنی کاٹنے سے قبل، مختصر مدت کے لیے لیبیا کے سابق لیڈر معمر قذافی کے سفارتی عملے میں شامل تھے۔

طرابلس کے دو اضلاع سے تعلق رکھنے والی متحارب ملیشیاؤں سے تعلق رکھنےوالے اغوا کاروں نے اُنھیں چھ گھنٹے تک اپنے قبضے میں رکھا، جنھیں طرابلس کے ایک گھر سے رہا کرایا گیا۔
XS
SM
MD
LG