رسائی کے لنکس

لیبیا: قذافی مخالفین 'لاکر بی بمبار' کو جلا وطن نہیں کریں گے


المغراہی آنتوں کے کینسر میں مبتلا ہے

المغراہی آنتوں کے کینسر میں مبتلا ہے

لیبیا میں قذافی مخالفین کی حکومت نے کہا ہے کہ 1988ء میں امریکہ جانے والے ایک طیارے کو بم سے اڑانے کے مجرم لیبیائی شخص کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

لیبیا میں قذافی مخالفین کی 'عبوری قومی کونسل' کے وزیرِ انصاف نے اتوار کو دارالحکومت طرابلس میں صحافیوں کو بتایا کہ عبدالباسط المغراہی پہلے ہی 'پان ایم فلائٹ 103' کو بم سے تباہ کرنے کے الزام میں مقدمہ اور فردِ جرم کا سامنا کرچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت قذافی انتظامیہ کی طرح لیبیائی شہریوں کو دوسرے ممالک کے حوالے نہیں کرے گی۔

المغراہی پر 1988ء میں امریکہ جانے والی ایک پروزا کو بم سے اڑانے کا الزام ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی حکومت کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ المغراہی کے اہلِ خانہ سے رابطوں کے بعد اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ وہ اپنی رہائی کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہےجبکہ ملزم کی طبیعت بھی کینسر میں مبتلا کسی بھی مریض کی حالت کے عین مطابق ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ المغراہی کی صورتِ حال میں کسی بھی تبدیلی پر 'عبوری قومی کونسل' سے گفتگو کی جاسکتی ہے۔

اس سے قبل امریکی ٹی وی 'سی این این' نے اتوار کو دعویٰ کیا تھا کہ المغراہی طرابلس میں موجود ہے اور بظاہر "قریب المرگ" ہے۔ چینل کے ایک نمائندے نے خبر دی تھی کہ المغراہی لیبیائی دارالحکومت کے ایک عالیشان گھر میں مقیم ہے جس کی کم از کم چھ سکیورٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جارہی ہے۔

'سی این این' پر نشر کی گئی ویڈیو میں المغراہی کو بے ہوشی کے عالم میں بستر پر دراز دکھایا گیا ہے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ملزم کھانا پینا ترک کرچکا ہے اور 'کوما' کی حالت میں ہے جس کےبعد اسے مصنوعی طریقے سے آکسیجن اور غذا فراہم کی جارہی ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی حکومت نے ڈاکٹروں کی اس تشخیص کےبعد المغراہی کو 2009ء میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کردیا تھا کہ ملزم آنتوں کے کینسر میں مبتلا ہے اور بمشکل کچھ ماہ ہی زندہ رہ پائے گا۔ المغراہی نے خود کو سنائی گئی کم از کم 27 برس قید کی سزا میں سے آٹھ برس کی قید کاٹی تھی۔

المغراہی کو رہا کرنے کے فیصلے پر 'لاکر بی ' حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین، جن کی اکثریت کا تعلق امریکہ سے ہے، نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا تھا۔ لیبیا کے حکمران معمر قذافی کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد اس امید کا اظہار کیا جارہا تھا کہ ملک کے نئے حکمران حملوں کے ذمہ دار کو ملک بدر کردیں گے۔

XS
SM
MD
LG