رسائی کے لنکس

نیٹو کے فضائی حملے میں قذافی کا بیٹا ہلاک


نیٹو کے فضائی حملے میں قذافی کا بیٹا ہلاک

نیٹو کے فضائی حملے میں قذافی کا بیٹا ہلاک

لیبیا کے ایک عہدے دار نے کہاہے کہ نیٹو کے فضائی حملوں میں صدر قذافی کا ایک بیٹا اور تین پوتے ہلاک ہوگئے ہیں۔

لیبیا کی حکومت کے ایک ترجمان موسیٰ ابراہیم نے قدافی کے بیٹے کی ہلاکت کا اعلان ہفتے کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 29 سالہ سیف العرب اور صدر کے تین پوتے نیٹو کے فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے ، جو بقول ان کے صدر قذافی کے قتل کے لیے کیا گیاتھا۔ ترجمان نے بتایا کہ قذافی کا چھوٹا بیٹا سیف ایک طالب علم تھا۔

ابراہیم کا کہناتھا کہ مسٹر قذافی اور ان کی اہلیہ حملے کے وقت اپنے بیٹے کے گھر میں تھے تاہم وہ محفوظ رہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ گھرمیں موجود دیگر کئی افراد زخمی ہوئے۔

نامہ نگاروں کو نیٹو کے حملے کا ہدف بننے والے گھر کا بھی دورہ کرایا گیا، جسے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔

نیٹو کی جانب سے کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ لیکن جیسے ہی اس حملے کی خبر لیبیا میں پھیلی تو باغیوں کے مضبوط گڑھ بن غازی میں لوگوں سے خوشی و مسرت کے اظہار کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔

ہفتے کی صبح نیٹو نے مسٹر قذافی کی جانب سے ملک میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی پیش کش مسترد کردی تھی۔

نیٹو کے ایک عہدے دار نے ہفتے کے روز کہا کہ نیٹو عملی اقدامات دیکھنا چاہتا ہے، الفاظ نہیں۔ عہدے دار کا کہنا تھا کہ نیٹو کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک لیبیا کے شہریوں کے لیے خطرات موجود ہیں۔

لیبیا کے قبائل نے بھی مذاکرات کے لیے مسٹر قذافی کی اپیل یہ کہتے ہوئے مسترد کردی ہے کہ اب بات چیت کاوقت گذر چکاہے۔ عبوری قومی کونسل سے تعلق رکھنے والے قبائل نے کہاہے کہ مسٹر قذافی کی حکومت اپنا اعتماد کھو چکی ہے۔

ہفتے کی صبح مسٹر قذافی نےٹیلی ویژن پر اپنی ڈیڑھ گھنٹے کی طویل تقریر میں کہا تھا کہ اگر نیٹو اپنے حملے روک دے تو وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ تاہم انہو ں نے واضح کیا کہ وہ اقتدارنہیں چھوڑیں گے۔

لیبیا کا کہنا ہے کہ نیٹو ایئر فورس نے نیشنل براڈکاسٹ آفس کے قریب بمباری کی ، جب کہ اس وقت مسٹر قذافی وہاں تقریر کررہے تھے۔

لیبیا کی حکومت نے کہا ہے کہ اتحادی افواج کی بمباری یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ان کا ہدف مسٹر قدافی ہیں۔

XS
SM
MD
LG