رسائی کے لنکس

لیبیا کی بحریہ کا باغیوں کے چنگل سے آئل ٹینکر واگزار


الصدرہ

الصدرہ

وزیر اعظم علی زیدان نے متنبہ کیا ہے کہ لیبیا ٹینکر کے کپتان، مالک اور جھنڈا بردار ملک کو، بقول اُن کے، اس ’مجرمانہ حرکت‘ کا ذمہ دار قرار دے گا

لیبیا کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ سرکاری افواج نے ایک ٹینکر اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جس میں خام تیل لدا ہوا تھا، جسے مرکزی حکومت کے احکامات کی انحرافی کرتے ہوئے ایک علیحدگی پسند میلشیا برآمد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

پیر کے روز فوجی اور تیل کی صنعت سے وابستہ ذرائع نےبتایا ہے کہ لیبیا کی بحریہ نے ایک سمندری جہاز قبضے میں لیا ہے، ایسے میں جب یہ ’الصدرہ‘ کی مشرقی بندرگاہ سے روانہ ہوکر سرکاری کنٹرول والی ایک بندرگاہ کی طرف گامزن تھا۔

اِس سے قبل، باغیوں کے ایک ترجمان نے اِس بات کی تردید کی کہ سمندری جہاز عملے کے کنٹرول میں باہر جا چکا تھا۔

جہاز ’مارننگ گلوری‘ پر شمالی کوریا کا پرچم لہرا رہا تھا۔ لیکن، یہ واضح نہیں آیا یہ کس ملک کی ملکیت ہے۔ جہازرانی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ملکیت کو رازداری میں رکھنے کے لیے نقلی جھنڈے کا سہارا لیا گیا۔

پیر ہی کے روز، لیبیا کے پارلیمان نے خصوصی افواج کو احکامات جاری کیے ہیں کہ ایک ہفتے کے اندر اندر فوج تعینات کرکے ملک کے کشیدگی کے شکار مشرقی علاقے کی تمام بندرگاہیں جن پر باغیوں کا قبضہ ہے، واگزار کرالی جائیں۔

پارلیمان کے سربراہ، نوری علی ابو سہمین نے، جنھین صدارتی اختیارت حاصل ہیں، یہ بندرگاہیں چھڑانے کے لیے ایک فورس تشکیل دینے کے لیے کہا ہے، جس میں باضابطہ فوجی اور حامی میلشیا شامل ہوں۔ اِس سے پیشتر، اِن بندرگاہوں سے یومیہ سات لاکھ بیرل تیل کی درآمد ہوا کرتی تھی۔

گذشتہ آٹھ ماہ سے، الصدرہ اور لیبیا کی دیگر اہم بندرگاہیں میلیشیا کے کنٹرول میں رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کی تیل کی برآمد گھٹ گئی ہے۔

طرابلس کے حکام کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، اتوار کے روز، ’مارننگ گلوری‘ پر تین کروڑ ڈالر مالیت کا خام تیل لادا گیا، حالانکہ سرکاری طور پر متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر یہ لنگرانداز جہاز روانہ ہوا تو اِسے بم سے اڑا دیا جائے گا۔

مسلح افراد نے حکومت سے وفادار کارکنوں کو مجبور کیا کہ ہفتے کو جہاز کو لنگر انداز رہنے دیا جائے۔

اس سے قبل امریکہ نےسمندری جہاز میں لدے ہوئے خام تیل کی ناجائز فروخت کےنتائج بھگتنے کا انتباہ جاری کیا تھا۔

یہ تیل لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن اور اُس کے تین امریکی کنسوشیم پارٹنرز کی ملکیت ہے۔ لیبیا کی طرف سےمیلیشیاؤں کی طرف سے بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی براہِ راست فروخت پر پابندی لگی ہوئی ہے۔

وزیر اعظم علی زیدان نے متنبہ کیا ہے کہ لیبیا ٹینکر کے کپتان، مالک اور جھنڈا بردار ملک کو، بقول اُن کے، اس ’مجرمانہ حرکت‘ کا ذمہ دار قرار دے گا۔
XS
SM
MD
LG