رسائی کے لنکس

لیبیا: غیر وابستہ بحری مبصر فورس کی تعیناتی کا مطالبہ


فائل

فائل

وزیر اعظم عبداللہ الثنی نے جمعے کے روز قاہرہ میں صحافیوں اور مصر کے سرکاری اہل کاروں سے سلامتی اور معاشی معاملات پر بات چیت کی

تبروک میں قائم لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ کابینہ کے سربراہ، عبداللہ الثنی نے کہا ہے کہ اسلامی شدت پسندوں کو اسلحے کی اسمگلنگ روکنے کے لیے، اُن کی حکومت بین الاقوامی برادری سے لیبیا کے ساحل کے ساتھ بحری فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

یہ بات قاہرہ سے وائس آف امریکہ کے نمائندے، ایڈورڈ یرانیان نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔

وزیر اعظم الثنی نے جمعے کے روز قاہرہ میں صحافیوں اور مصر کے سرکاری اہل کاروں سے سلامتی اور معاشی معاملات پر بات چیت کی۔

’لیبیا ہیرالڈ‘ کے مطابق، اُنھوں نے ماسکو جاتے ہوئے قاہرہ میں قیام کیا۔ بتایا گیا ہے کہ ماسکو کے دورے میں وہ حکومت روس سے ممکنہ اسلحے کی فروخت کے بارے میں بات کریں گے۔

الثنی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اُن کی حکومت بین الاقوامی برادری سے لیبیا میں اسلحہ داخل ہونے کے معاملے کی نگرانی کرنے اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکنے کے کام میں مدد دینے کے لیے ایک غیروابستہ بحری مبصر فورس کی تعیناتی پر زور دے رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ لیبیا نے بحری مبصر فوج کی تعیناتی کا بارہا مطالبہ کیا ہے، خاص طور پر یورپی یونین کی جانب سے، تاکہ ہتھیاروں کی غیر قانونی ترسیل کو روکا جاسکے، اور یہ کہ، اگر یہ کوشش ایک غیرجانبدار ملک کی جانب سے کی جاتی ہے، تو ایسے اقدام کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG