رسائی کے لنکس

354 پاکستانیوں کی لیبیا سے وطن واپسی


354 پاکستانیوں کی لیبیا سے وطن واپسی

354 پاکستانیوں کی لیبیا سے وطن واپسی


لیبیا میں پھنسے پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت نے ترکی کی ائرلائن کے دو طیارے چارٹر کیے ہیں اور پہلے مرحلے میں ان دونوں جہازوں کے ذریعے 354 افراد کو منگل کو وطن واپس لایا گیا۔

لاہور ائرپورٹ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے ان پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ لیبیا میں انھیں ایک انتہائی مشکل اور خطرناک صورت حال کا سامنا تھا اور جوپاکستانی اس وقت ملک سے نکلنے کی کوشش میں ہیں وہ بھی اِنھیں حالات سے دوچار ہیں۔ ”وہاں صورتحال بالکل بھی اچھی نہیں، جب ہم ائر پورٹ سے نکلے تو اس وقت بھی وہاں فائرنگ ہورہی تھی، چھینا جھپٹی ہورہی ہے“۔

وطن واپس پہنچنے والے بعض افراد نے لیبیا میں پاکستانی سفارت خانے کے مبینہ غیر مناسب رویے اور عدم تعاون کی شکایت کی ۔ لیکن پاکستانی حکومت کے عہدے داروں نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیبیا میں موجود پاکستانیوں کے وہاں سے محفوظ انخلاء کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں ۔

تاہم حکومت کا موقف ہے کہ اٹھارہ ہزار پاکستانی شہریوں میں سے تمام وہاں سے واپس آنے کے خواہش مند نہیں۔ لیبیا میں موجود پاکستانیوں کے بارے میں منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی اراکین نے سوالات اٹھائے اور تشویش کا اظہار کیا ۔ وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور بابر اعوان نے اجلاس کو حکومت کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا۔ ”جب تک وہاں موجود تمام پاکستانیوں کی خیریت کو یقینی نہیں بنایا جاتا اور جہاں ضرورت ہے وہاں سے انخلا نہیں ہوجاتا، تمام سفارتخانے الرٹ رہیں گے“۔

وزیر مملکت برائے خارجہ اُمور حنا ربانی کھر نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ حکومت پاکستان لیبیا میں فضائی ٹریفک کو کنٹرول کرنے والے حکام سے رابطے میں ہے تاکہ قومی ائر لائن پی آئی اے کے طیاروں کو لیبیا میں اتارنے کی اجازت حاصل کرکے پاکستانی شہریوں کے انخلاء کے عمل کو تیز کیا جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ ترکی، تیونس اور مصر میں پاکستانی سفارت خانوں کو ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ لیبیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے خوراک اور طبی علاج کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

XS
SM
MD
LG