رسائی کے لنکس

لیبیا کی خانہ جنگی، کوئی پاکستانی شہری ہلاک نہیں ہوا: سفیر

  • نیلوفر مغل

لیبیا کی خانہ جنگی، کوئی پاکستانی شہری ہلاک نہیں ہوا: سفیر

لیبیا کی خانہ جنگی، کوئی پاکستانی شہری ہلاک نہیں ہوا: سفیر

اُنھوں نے بتایا کہایک ماہ کے دوران حکومتِ پاکستان نے پی آئی اے کے سات جمبو جیٹ طرابلس بھیجے تھے، جب کہ دو پرزاویں چارٹرڈ کی گئی تھیں اور عام پروازوں سے بھی کم و بیش دس دس پاکستانی شہریوں کو عام پروازوں سے واپس وطن بھیجوا گیا

لیبیا میں پاکستان کے قائم مقام سفیر، علی جاوید کا کہنا ہے کہ سفارت خانے نے متاثرہ شہریوں کو ملک سے واپس بھیجوانے کی بھرپور کوششیں کی ہیں۔ لیکن، ایسے پاکستانی جو اب بھی لیبیا میں ہیں اُن کے لیے مشورہ یہ ہے کہ وہ بلا وجہ سفر سے گریز کریں، گھروں پر رہیں اور کسی کے ساتھ لین دین نہ کریں۔

اتوار کو ’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ انٹرویو میں اُنھوں نےبتایا کہ سفارت خانے کی اطلاع کے مطابق اب تک ہونے والی لڑائی میں کوئی پاکستانی شہری ہلاک نہیں ہوا اور نہ ہی کسی پر کسی قسم کا کوئی حملہ کیا گیا ۔

علی جاوید نے کہا کہ’ نو فلائی زون‘ قائم ہونے سے ایک ماہ قبل ہی سفارت خانے نے پوری کوششیں کی ہیں کہ پاکستانیوں کے ساتھ رابطہ ہو، اُن کے اعدادو شمار جمع ہوں اور اُنھیں حفاظت سے پاکستان واپس بھجوا یا جائے۔

جب اُن کی توجہ اِس دعوے کی طرف مبذول کرائی گئی کہ پاکستانی سفارت خانے نے شہریوں کی دیکھ بھال اور واپسی کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں کیا گیا، تو اُنھوں نے کہا کہ حتی الوسع کوشش کی گئی ہے کہ جتنی مدد ہوسکے فراہم کی جائے۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے پی آئی اے کے سات جمبو جیٹ طرابلس بھیجے تھے، جب کہ دو پرزاویں چارٹرڈ کی گئی تھیں اور عام پروازوں میں بھی کم و بیش دس دس پاکستانی شہریوں کو عام پروازوں سے واپس وطن بھیجوا گیا ۔

ایک اور سوال کے جواب میں علی جاوید نے کہا کہ حالات ایسےتھے کہ اپنے طور پر کوئی پاکستانی لیبیا سے باہر نہیں جا سکتا تھا، ماسوائے سفارت خانے کی طرف سے مدد فراہم کیے۔ ایک ماہ قبل لیبیا سے لوگ ضرور واپس گئے تھے جِن کے حالات ٹھیک تھے اور مالی دشواری کا سامنا نہیں تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ مارچ کی چھ سے 12تاریخ تک چھ جمبو جیٹ آئے جس میں سے ہر طیارہ 464پاکستانیوں کو واپس لے کرگیا، اور 17کو آخری جہاز گیا جس کی گنجائش بھی 464مسافر لے جانے کی تھی۔

جب اُن سے سکیورٹی کے بارے میں پوچھا گیا اُنھوں نے کہا کہ سکیورٹی فراہم کرنا میزبان ملک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

تفصیلی رپورٹ کے لیے آڈیو رپورٹ سینئے:

XS
SM
MD
LG