رسائی کے لنکس

لیبیا:عبوری سربراہ کو درپیش مشکلات

  • ال پیسن

عبوری قومی کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل

عبوری قومی کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل

لیبیا کے نئے عبوری لیڈر ملک پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور ایک نئی جمہوریت کی تعمیر کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ لیکن انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ وہی مشکلات ہیں جن کا سامنا حالیہ برسوں کے دوران اُن کئی ملکوں کو کرنا پڑا ہے جن میں اسی قسم کی تبدیلیاں آئی ہیں۔

لیبیا میں باغیوں اور ان کے حامیوں نے گذشتہ مہینے اپنی فتح کاجشن منایا۔ لیکن اب انہیں اس حقیقت کاسامناکرنا پڑ رہا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جو چھ مہینے کی جنگ اور 42 سال تک ایک فرد کی حکومت کے اثرات سے چور چور ہو چکا ہے، نظم و نسق کیسے قائم کیا جائے ۔

ملک کی نیشنل ٹرانزیشنل کونسل اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے اقدامات کر رہی ہے لیکن معمر قذافی کے بچے کھچے حامیوں کی طرف سے مزاحمت کے امکان پر تشویش موجود ہے ۔

عمائیل حکایم لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز میں سینیئر فیلو ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’مجھے اس خیال سے پریشانی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نیشنل ٹرانزیشنل کونسل کو بہت محتاط ہونا چاہئیے اور انتقامی کارروائی اور پرانے جھگڑے چکانے سے بچنا چاہئیے بلکہ پرانی حکومت کی کچھ شخصیتوں کو نئے سیاسی ڈھانچے میں شامل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔‘‘

اس طرح ہم اس صورتِ حال سے بچ جائیں گے جسے ماہرین عراق کا منظرنامہ کہتے ہیں،جس میں سابق حکومت کی فوجیں اور اس کے سیاسی حامی باغیوں سے مِل گئے تھے ۔ لیکن لیبیا کے بزنس مین سلیم المائر کو اس سلسلے میں کوئی تشویش نہیں ہے ۔ وہ کہتے ہیں’’عراق سے ہمارا موازنہ کرنا بے معنی سی بات ہے ۔ لیبیا میں ہمارا یہی خیال ہے ۔ یہاں حالات اور منظر نامہ بالکل مختلف ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لیبیا عراق نہیں ہے۔‘‘

المائر کہتے ہیں کہ لیبیا کے عبوری دور کے لیڈر، پرانی سیاسی اور قبائلی وفاداریوں کی جگہ ایک نئی قومی پہچان قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔’’اب تصور یہ ہے کہ اب ہم سب لیبیا کے سائے تلے متحد ہیں۔ اب ہمیں ایک سول سوسائٹی کی ضرورت ہے جو لیبیا کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے اور گذشتہ 42 برسوں کے مصائب کا مداوا کرے۔‘‘

لیکن عمائیل حکایم کہتے ہیں کہ یہ کہنا آسان ہے اور کرنا مشکل ۔’’مجھے بیورو کریٹس کی اہلیت کے بارے میں کوئی فکر نہیں ہے ۔مجھے زیادہ فکر یہ ہے کہ کیا ایسے سیاستداں موجود ہیں جو اپنی تقریروںمیں صحیح بات کہیں، اور اس عبوری دورمیں ایسے اولین علامتی اقدامات کریں جو ٹھیک ہوں۔‘‘

نیشنل ٹرانزیشنل کونسل کے سربراہ، مصطفی عبد الجلیل نے پیر کے روز اس جانب قدم اٹھانے کی کوشش کی ۔ انھوں نے اس عزتِ نفس اور وقار کی بات کی جو لیبیا کے لوگوں نے مسٹر قذافی کو تختہ الٹنے سے حاصل کیا ہے ۔ انھوں نے لیبیا کو ایسا ملک بنانے کا وعدہ کیا جس کی بنیاد اعتدال پسند اسلام پر ہو۔

اس تقریر سے پہلے ہی، برطانوی وزارتِ خارجہ کے ترجمان بیری مارسٹن نے وائس آف امریکہ سے کہا کہ حالات امید افزا ہیں۔’’ٹرانزیشنل نیشنل کونسل کچھ عرصے سے اس دن کی منصوبہ بندی کر رہی تھی، اور انھوں نے اپنے لوگوں کے لیے جمہوری اور روشن مستقبل کا منصوبہ بنانے کے معاملے پر جتنی توجہ دی ہے، اس سے ہم بہت متاثرہوئے ہیں۔ جب تک بڑے پیمانے پر لیبیا کے لوگوں کی شرکت ہوتی ہے، ہمارے خیال میں اچھی امیدیں وابستہ کرنے کی وجوہ موجود ہیں۔‘‘

جب کامیابی کے جشن ٹھنڈے پڑ جائیں گے، اور جمہوریت کی طرف پیش قدمی کا کٹھن سفر شروع ہوگا، تو اس وقت پتہ چلے گا کہ مستقبل کے لیئے یہ اچھی امیدیں کس حدتک پوری ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG