رسائی کے لنکس

متعدد ملکوں کی اپنے شہریوں کی لیبیا سے واپسی کے لیے کوششیں


متعدد ملکوں کی اپنے شہریوں کی لیبیا سے واپسی کے لیے کوششیں

متعدد ملکوں کی اپنے شہریوں کی لیبیا سے واپسی کے لیے کوششیں

لیبیا میں صدر معمر قذافی کی حکومت کے خلاف جاری پرتشد د احتجاج کے باعث اس ملک میں محصور غیر ملکیوں کو وہاں سے باحفاظت نکالنے کے لیے پڑوسی ممالک اپنے طیارے اور بحری جہاز یہاں بھیج رہے ہیں۔

مصر کے وزیرخارجہ نے منگل کے روز بتایا کہ لیبیا میں مقیم مصر کے لاکھوں باشندوں میں سے ہزاروں کو وطن واپس لانے کے لیے فوجی اور سویلین طیارے بھیجے جارہے۔ تاہم اُنھوں نے بتایا کہ مصری ہوائی جہاز بن غازی کے ائیر پورٹ پر نہیں اُتریں گے کیوں کہ یہ ہوائی اڈہ تباہ ہوچکا ہے لیکن اُنھوں نے اس بات کی مزید وضاحت نہیں کی۔

لیبیا میں جاری پرتشدد احتجاج کے بعدمصر کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق قاہرہ میں نئے فوجی حکمرانوں نے لیبیا کے ساتھ ملنے والی اپنی سرحدوں پر تعینات فوجیوں کی تعداد بڑھا دی ہے ۔ لیبیا سے پیدل داخل ہونے والے مصری باشندوں کی دیکھ بھال اور اُنھیں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے بھی ٹیمیں سرحدی قصبے میں بھیج دی گئی ہیں۔

ترک حکومت نے کہا ہے کہ بن غازی میں محصور اُس نے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے کئی کشتیاں روانہ کر رکھی ہیں۔ وطن واپسی کے لیے کشتیوں کے منتظر ہزاروں ترک باشندے منگل کو شہر کے ایک سٹیڈیم میں اکھٹا ہو گئے ہیں۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ اُس کے 25ہزار باشندے لیبیا میں کام کرتے ہیں۔

تنزانیہ کے تقریباً تین ہزارباشندے زمینی راستے کے ذریعے لیبیا چھوڑ چکے ہیں جب کہ باقی ہوائی جہازوں کے انتظار میں ہیں۔

فلپائن نے کہا ہے کہ وہ اپنے باشندوں کی واپسی کے لیے اُنھیں فضائی سفر کے اخراجات فراہم کر رہا ہے، فلپائن کے کم از کم 26ہزارشہری لیبیا میں مقیم ہیں۔ جنوبی کوریا نے بھی اپنے باشندوں پر زور دیا ہے کہ وہ لیبیا چھوڑ دیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے پیر کو اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ لیبیا میں جاری احتجاج کے باعث اس ملک کے لیے اپنا سفر موخر کردیں۔

XS
SM
MD
LG