رسائی کے لنکس

لیبیا میں صورتِ حال تعطل کی جانب بڑھ رہی ہے: اعلیٰ امریکی فوجی عہدے دار

  • یاسمین جمیل

لیبیا میں صورتِ حال تعطل کی جانب بڑھ رہی ہے: اعلیٰ امریکی فوجی عہدے دار

لیبیا میں صورتِ حال تعطل کی جانب بڑھ رہی ہے: اعلیٰ امریکی فوجی عہدے دار

’جب سیف الاسلام قذافی نے کہا کہ وہ اقتدار سنبھال لیں گے، تو مخالفین نے کہا کہ نہیں، یہ ہمیں قابلِ قبول نہیں ہے‘

لیبیا میں قذافی حکومت کی مخالف فوجوں کے ایک کمانڈر نے کہا ہے کہ باغیوں کے ٹینکوں کی پوزیشن پر ایک ہلاکت خیز حملے میں چار افراد ہلاک اور15زخمی ہوئے۔ تاہم اُنھوں نے اسے ایک ’ فرینڈلی فائر‘ کا امکان بھی قرار دیا ہے۔اُدھر ایک اعلیٰ امریکی فوجی عہدے دار نے کہا ہے کہ لیبیا میں صورتِ حال تعطل کی جانب بڑھ رہی ہے۔

جمعرات کو پروگرام ’اِن دِی نیوز‘ میں سابق سفارت کار اور تجزیہ کار جاوید حفیظ سے اور امریکہ میں ممتاز تجزیہ کار پروفیسر طیب محمودنے’ وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کی۔

جاوید حفیظ کا کہنا تھا کہ معمر قذافی کی علیحدگی کا مطالبہ، اُن کے بقول، ’صرف اور صرف لیبیا کے عوام کی طرف سے آنا چاہیئے‘۔

’اِس سے ایک تاثر یہ ملتا ہے کہ امریکہ کا بہت ہی واضح مقصد لیبیا میں ’رجیم چینج‘ ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ جو وہاں پر باغی ہیں یا جو قذافی کے مخالف لوگ ہیں وہ صورتِ حال سے کس طرح نبردآزما ہو پائیں گے۔ اُن کی شرائط ابھی تک سامنے کیوں نہیں آئیں؟ کوئی بات واضح کیوں نہیں ہوئی؟ لگتا ہے کہ آپس میں تعاون یا اتحاد نہیں ہے۔ ’چین آف کمانڈ‘ نہیں ہے۔ چھوٹی چھوٹی پاکٹس ہیں جِن میں وہ لوگ نیم مسلح ہیں۔ اُن کے پاس چھوٹے چھوٹے ہتھیار ہیں اُن کی شرائط ابھی واضح نہیں ہیں۔ لیکن اُن کا بھی مطالبہ یہی ہے، کیونکہ جب سیف الاسلام قذافی نے کہا کہ وہ اقتدار سنبھال لیں گے، تو مخالفین نے کہا کہ نہیں۔ یہ ہمیں قابلِ قبول نہیں ہے۔‘

اُنھوں نے مزید کہا، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ آگے کیا چاہتے ہیں؟ انتخابات چاہتے ہیں؟ کیا طریقہ چاہتے ہیں؟

’فی الحال، تو ایسا لگتا ہے کہ لیبیا تقسیم ہو گیا ہے مشرق اور مغرب میں۔ ایک طرف قذافی کی حامی فوجوں کا قبضہ ہے اور دوسری طرف اُن کی مخالف قوتوں کا قبضہ ہے۔ اِس لحاظ سے، ابھی صورتِ حال واضح نہیں ہے، اور یہ خانہ جنگی کی سی صورتِ حال بن گئی ہے۔ جو تازہ ترین خبریں ہیں اُن میں کچھ نیٹو کی بمباری سے بھی انقلاب پسند لوگ مارے گئے ہیں۔ اِس قسم کی صورتِ حال میں مغربی قوتوں کو بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے کہ وہ جِس مقصد کے لیے آئے ہیں یعنی انسانوں کا تحفظ ، وہ اُس پر زیادہ توجہ مرکوز کریں۔‘

پروفیسر طیب نے نیٹو کی کارروائی کے بارے میں کہا کہ مبصرین کا خیال ہے کہ جو اقوامِ متحدہ کی قرارداد تھی ، لگتا یوں ہے کہ اُس حد سے تجاوز کی بات ہو رہی ہے۔

’ اقوامِ متحدہ نے ’نو فلائی زون ‘کی بات کی تھی اور شہریوں کے تحفظ کی بات کی تھی۔ لیکن باغی گروپوں کے لیے ’ایکٹو سپورٹ‘ کے معاملے پر روس، چین، برازیل اور بھارت جو سلامتی کونسل کے رُکن ہیں اُنھوں نے احتجاج بھی کیا ہے۔‘

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG