رسائی کے لنکس

لیبیا: انقلابی باغی حکومت کے لیے خطرہ بن گئے

  • واشنگٹن

لیبیا: آزادی کا اعلان

لیبیا: آزادی کا اعلان

باغی کمانڈر کا کہنا ہے کہ ہمارا اصل کام انقلاب کو جاری رکھنا ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ ملک پھر بُرائی کی طرف نہ جائے، اور یہ حکومت سابقہ حکومت کی طرح لاپرواہ نہ ہو جائے

پچھلے سال جن لشکریوں نے لبیا کے معمّر قذافی کو شکست دی تھی۔ اب وُہی لوگ اُس نئی نویلی جمہُوریت کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ جو اُن کی مدد سے قائم ہوئی تھی۔اُن میں سے بُہت سُوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے۔ اور وہ ان کو تحفظ دینے کے لئئے کئی قوانین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ڈیڑھ سال قبل انجنئیر عمران الوایاب نے اپنے پڑوس کو قذافی کی فوجوں سے بچانے کے لئے ہتھیار اُٹھا لئے تھے۔ اب یہی شخص اُن جُزوقتی باغیوں کے جتھے کی قیادت کر رہا ہے۔ جنہیں اپنے مُلک کے مستقبل کی فکر ہے۔

باغی کمانڈر کا کہنا ہے کہ ہماراا صل کام انقلاب کو جاری رکھنا ہے۔ہمیں خدشہ ہے کہ ملک پھر بُرائی کی طرف نہ جائے، یہ حکومت سابقہ حکومت کی طرح لاپرواہ نہ ہو جائے۔ جیسے سابق ملک میں ہوتا تھا۔

الوایاب کے پاس ایسے باغی کمانڈروں کی قیادت ہے ، جن کا خیال ہے کہ ان کے انقلاب کی وُہ قدر نہیں ہو رہی ۔ جس کے کہ وُہ مستحق ہیں ۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ ہماری جنگ ہے ، یعنی ہمارے لبیا کی جنگ، ہمیں اس جنگ پر اعتبار کرنا چاہئے ۔ اور اسے تاریخ کا حصّہ ماننا چاہئے۔ہمیں اسی جنگ کی بدولت آزادی نصیب ہوئی ہے ۔لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ حکومت اس جنگ کو بُھلا دینا چاہتی ہے۔ جی نہیں یہ ہماری جنگ ہے۔

ان کمانڈروں کا مطالبہ ہے کہ قذافی کے حامیوں کو لیبیا کی حکومت اور فوج سے علیٰحدہ کیا جائےاور پچھلے سال کے آٹھ ماہ کی لڑائی کے دوران باغی فوجوں کے ہاتھوں جو کُچھ بھی سر زد ہوا تھا۔ اس کے خمیازے سی اُنہیں استثنیٰ حاصل ہو۔

باغی کما نڈر کا کہناہے کہ ان کی جماعت تشدّد سے نہیں سیاست سے کام لینا چاہتی ہے۔ لیکن نو ماہ سے جو ہم لوگ جس طرح ایک غیر منتخب حکومت کے نیچے دبے ہوئے ہیں ، وُہ ایک مایُوس کُن امر ہے۔ اور حکومت جس سُست روی کا شکار ہے ۔ اُس میں کُچھ بھی ہو سکتا ہے۔

عمران الاوایاب اور اُن کے ساتھیوں کے لئے یہ سفر مُشکل بھی تھا اور غیر متوقع بھی، گرمیوں کے ان طویل دنوں میں وہ یہ وقت اپنے خود ساختہ اڈّوں میں بیکار گُزار رہے ہیں ۔اور اب جب کہ ایک نئی منتخب حکومت حلف لینے والی ہے، کمانڈر وایاب کا کہنا ہے کہ باغی ہتھیار ڈالنا چاہتےہیں اور فوج میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن اُسی صورت میں جب اُن کے مطالبات مانے جایئں گے، اور اُنہیں یقین دلایا جائے گا، کہ ملک اب جمہوریت کی پُختہ راہ پر گامزن ہے
XS
SM
MD
LG