رسائی کے لنکس

عالمی فوجداری عدالت کو سیف الاسلام اور خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کی تلاش


عالمی فوجداری عدالت کو سیف الاسلام اور خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کی تلاش

عالمی فوجداری عدالت کو سیف الاسلام اور خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کی تلاش

بین الاقوامی فوجداری عدالت آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر نے کہاہے کہ ان کا ادارہ سابق صدر معمرقذافی کے بیٹے اور لیبیا کےجاسوسی کے سابق سربراہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی بھرپور کوششیں کررہاہے۔

لوئیس مورنیو اوکامپو نے کہا ہے کہ قذافی کی وفادار فورسز، انقلابی جنگجوؤں اور نیٹو کی جانب سے مبینہ جنگی جرائم کے ایک بڑے مقدمے کے ایک حصے کے طورپر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کی تلاش کی کوششیں جاری ہیں۔

انہوں کا کہناتھا کہ ان کا دفتر یہ جان پڑتال بھی کررہاہے کہ آیا لیبیا کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ عبداللہ السنوسی نے ان افراد کو سزا دینے کے لیے جو ان کے مطابق لیبیا کے منحرفین یا باغی تھے، بڑے پیمانے پرجنسی زیادتیوں کا نشانہ بنانے کا حکم دیاتھا۔ ان دونوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

عالمی فوجداری عدالت نے بدھ کے روز اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیان پر اپنے خیالات کااظہار کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے خلاف مبینہ الزامات کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جن میں لڑائی میں حصہ لینے کے شبے میں عام شہریوں کی گرفتاریاں اور انہیں دوران حراست ہلاک کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں ۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہاہے کہ قومی عبوری کونسل کے جنگجو سب صحارا کے افریقی تارکین وطن کارکنوں کو قذافی کی حمایت کے شبے کی بنا پر گرفتار کررہے ہیں ۔

مورینو اوکامپو نے نیٹو فورسز کی جانب سے کیے جانے والے ممکنہ جرائم کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں ۔جب کہ دوسری جانب اتحادی ان الزامات کو مسترد کرچکے ہیں کہ نیٹو کی سات ماہ تک جاری رہنے والے فضائی حملوں کے دوران عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیاتھا۔

نیٹو نے لیبیا میں اپنی فوجی کارروائیاں پیر کو بند کردی تھیں۔

XS
SM
MD
LG