رسائی کے لنکس

ملک کی عبوری حکومت کے رہنماؤں نے لیبیا کی خصوصی فورسز کو حکم دیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتوں میں بندر گاہوں پر حکومت کا قبضہ بحال کریں۔

لیبیا نے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ اسے ‘دہشت گردی کے خلاف’ جنگ کے لیے مدد درکار ہے۔

ملک کی عبوری حکومت کی طرف سے بدھ کو دیر گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ خاص طور پر لیبیا کے شہروں سے دہشت گردی کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے اسے اقوام متحدہ کی مدد چاہیے۔

بیان میں کہا گیا کہ دہشت گرد گروپ بن غازی، سیرت اور دیگر مقامات پر موجود ہیں۔

بن غازی میں رواں ہفتے کے اوائل میں ایک کار بم دھماکے میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔

2011ء میں ملک کے سابق حکمران معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے حکومت لیبیا میں سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنانے میں مصروف ہے۔

مختلف ملیشیاء گروپ جنہوں نے معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹا تھا اب تک ملک کے مختلف حصوں بشمول مشرقی علاقوں میں سرگرم ہیں جہاں کئی بندر گاہیں بھی ان کے قبضے میں ہیں۔

ملک کی عبوری حکومت کے رہنماؤں نے لیبیا کی خصوصی فورسز کو حکم دیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتوں میں بندر گاہوں پر حکومت کا قبضہ بحال کریں۔

لیبیا کا کہنا ہے کہ باغی تیل نہیں بیچ سکتے لیکن کیوں کہ ملک کی مشرقی بندر گاہیں ان کے قبضے میں ہیں اس لیے حکومت کی تیل کی برآمد میں 80 فیصد تک کمی آئی ہے۔
XS
SM
MD
LG