رسائی کے لنکس

لیبیا: بن غازی کی لڑائی میں 19 فوجی ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ ہفتر لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیبیا کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مشرقی شہر بن غازی میں 19 فوجی اہلکار ہو گئے ہیں، جہاں لیبیا کی فوج نے شہر کا قبضہ چھڑانے کے لیے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف تازہ کارروائی کی۔

جبکہ داعش سے منسلک ایک گروہ نے ملک میں ہونے والے دو خود کش بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ ہفتر لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک فوجی عہدیدار کے مطابق اس حملے کا ابتدائی نشانہ لیثی کے علاقے میں واقع عسکریت پسندوں کا گڑھ ہے اور سرکاری جنگی جہازوں نے گزشتہ رات اور جمعرات کو وہاں کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

دوسری طرف ملک کے مغربی علاقے، جہاں سب سے طاقت ور ملیشیاؤں کا دارالحکومت طرابلس پر قبضہ ہے، میں ایک خود کش حملہ آور نے مصراتہ شہر سے 60 کلومیٹر دور واقع ایک چیک پوسٹ کو کار بم دھماکے کا نشانہ بنایا جس میں عینی شاہدین کے مطابق ایک اہلکار مارا گیا۔

سماجی رابطے کے ویب سائیٹوں پر جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں لیبیا میں داعش سے منسلک ایک گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اس سے ایک روز قبل داعش نے مرکزی شہر سرت کے قریب ہونے والے دوسرے خود کش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ اس حملے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

لیبیا میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے آمر معمر قذافی کی معزولی کے تقریباً چار سال بعد ملک افراتفری کا شکار ہے جہاں دو حریف حکومتیں اور پارلیمان موجود ہیں۔ بین الاقوامی حمایت یافتہ حکومت طرابلس شہر کو چھوڑنے کے بعد مشرقی شہروں طبرق اور بیضا میں کام کر رہی ہے جبکہ ایک حریف متوازی حکومت طرابلس شہر سے کام کر رہی ہے۔

ملک میں انتشار کے باعث داعش سے منسلک ایک گروہ منظر عام پر آیا ہے اور ملک کے دو ساحلی شہر اس کے قبضے میں ہیں۔ ملک بھر میں عدم استحکام کی وجہ سے اس کی تیل کی اہم صنعت بری طرح متاثر ہوئی اور ملک میں اب تیل کی روزانہ پیداوار صرف چار لاکھ 30 ہزار بیرل ہے جو 2010ء میں 16 لاکھ بیرل تھی۔

XS
SM
MD
LG