رسائی کے لنکس

قذافی کےدور میں مبینہ اذیت کا شکار خاتون کی امداد


قذافی کےدور میں مبینہ اذیت کا شکار خاتون کی امداد

قذافی کےدور میں مبینہ اذیت کا شکار خاتون کی امداد

شویگا مُلا کا کہنا ہے کہ مسٹر قذافی کی بہو ، الین اسکاف نے اُنھیں اُلٹا لٹکا کر سر پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا۔ شویگا مُلا خاندان کے بچوں کی نگہبانی پر مامور تھیں

حقوقِ انسانی کا ایک بین الاقوامی گروپ ایتھیوپیا کی اُس مسخ شدہ چہرے والی خاتون کی امداد کے لیے کوشاں ہے، جِن کا کہنا ہے کہ اُنھیں لیبیائی لیڈر معمر قذافی کی ایک رشتہ دار نے اذیت پہنچائی تھی۔

انسدادِ غلامی کے لیے کارفرما ایک بین الاقوامی ادارے اور امریکہ میں قائم سی این این ٹیلی ویژن نیٹ ورک اِس وقت شویگا مُلا نامی اِس خاتون کے علاج کے لیے فنڈ جمع کررہے ہیں۔

خاتون کا سر سے آدھے دھڑ تک کا حصہ جھلسا ہوا ہے اور وہ اِس وقت طرابلس کے ایک اسپتال میں داخل ہیں۔

شویگا مُلا کا کہنا ہے کہ مسٹر قذافی کی بہو ، الین اسکاف نے اُنھیں اُلٹا لٹکا کر سر پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا۔ شویگا مُلا خاندان کے بچوں کی نگہبانی پر مامور تھیں۔

الجزائر سے ملنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اسکاف اور اُن کا شوہر ہنیبل قذافی، لیبیا کے سابق لیڈر کے رشتہ راوں میں سے ایک ہیں، جو الجزائر فرار ہوچکے ہیں۔

ایک وِڈیو میں شویگا مُلا طرابلس کے مرکزی’ بَرن سینٹر ‘ میں داخل ہیں۔ عربی اورحبشہ زبان بولتے ہوئے، وہ اِس کلپ میں کہتی ہیں: ’اماں، میں ٹھیک ہوں۔ اگر آپ یہ وِڈیو دیکھیں، تو پریشان نہ ہوں۔ آپ کا ٹیلی فون نمبردستیاب ہونے پر میں آپ سے بات کروں گی۔ میرے لیے دعا کرنا، فی الوقت ، یہی بات اہم ہے۔ دعا کرنا نہ چھوڑنا ‘۔

XS
SM
MD
LG