رسائی کے لنکس

بن غازی قونصیلٹ کی ناکافی سیکیورٹی پر ری پبلکنز کی نکتہ چینی

  • واشنگٹن

امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی میں بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے سے متعلق سماعت کا ایک منظر- 20 دسمبر 2012

امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی میں بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے سے متعلق سماعت کا ایک منظر- 20 دسمبر 2012

ا مریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولاند نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے سفارتی سیکیورٹی کے معاون وزیر خارجہ ایرک بوسویل کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ تین دوسرے عہدے داروں کو ان کے حالیہ فرائض سے ہٹا دیا گیا ہے ۔

حزب اختلاف کے قانون ساز لیبیا کے شہر بن غازی میں کافی سیکیورٹی کے بغیر وہاں سفارت کار بھیجنے کی بنا ء پر اوبامہ انتظامیہ پر تنقید کر رہے ہیں

ری پبلکن سینیٹر باب کراکر نے کہا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے عہدے دار جانتے تھے کہ سفیر کرس اسٹیونز اور ان کی ٹیم بن غازی ایک ایسے وقت میں جارہی تھی جب وہاں عدم استحکام میں اضافہ ہورہا تھا اور سیکیورٹی فراہم کرنے والی مقامی ملیشیا کے مسائل میں اضافہ ہورہا تھا ۔

تشدد کے بارے میں ایک غیر جانبدار رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ بن غازی میں کام کرنے والے عملے میں یہ احساس مسلسل موجود تھا کہ اس خصوصی مشن میں واشنگٹن کے لیے سیکیورٹی کوئی اہم ترجیح نہیں تھی۔ سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے سامنے شہادت دیتے ہوئے منیجمینٹ اور ریسورسز کے نائب وزیر خارجہ تھامس نائڈز نے کہا کہ دنیا بھر میں مجموعی سیکیورٹی پر نظر ثانی جاری ہے، خاص طور پر جہا ں قومی فورسز بکھری ہوئی یا امکانی طور پر کمزور ہوں ۔

ان کا کہنا تھا کہ دو سو سال سے زیادہ عرصے سے امریکہ نے دنیا بھر کے کسی بھی دوسرے ملک کی طرح سفارت خانوں اور قونصلیٹس کی سیکیورٹی کے لیے میزبان ملکوں پر انحصار کیا ہے ۔ لیکن آج کل کے دور میں کہ جب ہر طرف خطرات کا ماحول ہے ہمیں اپنے میزبان ملکوں کی صلاحیتوں اور ان کے وعدوں کااز سر نو اور زیادہ گہر ا جائزہ لینا ہو گا۔

مسٹر نائڈز کہتے ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن رپورٹ کی تمام سفارشات کو مان رہی ہیں اور وہ اس چیز کو یقینی بنانے کے لیے کام کررہی ہیں کہ ان پر تیزی سے عمل درآمد ہو۔

ا مریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولاند نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے سفارتی سیکیورٹی کے معاون وزیر خارجہ ایرک بوسویل کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ تین دوسرے عہدے داروں کو ان کے حالیہ فرائض سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ مز نولاند نے دوسرے عہدے داروں کے نام نہیں بتائے ۔

ر ی پبلکن سینیٹر مارکو روبیو نے پوچھا کہ ایسا کیوں ہوا کہ سینیر عہدے دار بن غازی میں سیکیورٹی کی کمزوریوں سے واقف نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ اس رپورٹ میں بہت سا الزام کم تر سطح کے معاون وزرائے خارجہ کو دیا گیا ہے ۔

مسٹر روبیو کہتے ہیں کہ وہ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے بن غازی پر اٹھائے گئے سوالات کے جوابات کے منتظر ہیں ۔ انہیں جمعرات کےر وز کمیٹی کے سامنے پیش ہونا تھ، لیکن امریکی محکمہ خارجہ کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ و ہ لگ بھگ دو ہفتے سے بیمار ہیں۔کراکر کہتے ہیں کہ مز کلنٹن کی شہادت کی سماعت لازمی ہے ۔

سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئر جان کیری کہتے ہیں کہ مز کلنٹن جنوری میں پیش ہوں گی ۔ اوہ ممکن ہے اس وقت تک وزیر خارجہ کے طور پر سبکدوش ہو چکی ہوں ۔ کیری ان کے متبادل کے لیے ایک اہم امیدوار ہیں ۔
XS
SM
MD
LG