رسائی کے لنکس

طرابلس: ہوائی اڈے پر قبضے کی لڑائی، 22 ہلاک


زنتان بریگیڈ کا ایک لڑاکا

زنتان بریگیڈ کا ایک لڑاکا

ایک وقت تھا کہ 2011ء میں یہی لڑاکا ٹولے طویل عرصے سے براجمان، مطلق العنان معمر قذافی کے خلاف پنجہ آزمائی کرنے والے جتھوں کا ساتھ دے رہے تھے

لیبیا کا کہنا ہے طرابلس میں 22 افراد اُس وقت ہلاک ہوئے، جب ملیشیاؤں کے متحاب دھڑوں کے مابین دارالحکومت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کنٹرول کے حصول کے لیے لڑائی جاری رہی۔

عبوری حکومت نے اموات میں اضافے کا یہ اعلان اتوار کے روز کیا، جب کہ اسلام پسند ملیشیاؤں کے درمیان مصراطہ کےساحلی شہر اور زنتان شہر کے پہاڑی علاقوں میں ایک روز قبل شروع ہونے والی لڑائی جاری رہی۔ ایک وقت تھا کہ 2011ء میں یہی لڑاکا ٹولے طویل عرصے سے براجمان، مطلق العنان معمر قذافی کے خلاف پنجہ آزمائی کرنے والے جتھوں کا ساتھ دے رہے تھے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بھاری مسلحہ گروہوں نے شہری اہداف پر گولہ باری کی، جس اس جنگ و جدل کا تازہ شاخسانہ ہے، جس میں حالیہ ہفتوں کے دوران 200 سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

ملیشیا کی گولہ باری کے سبب تیل کے آٹھ بڑے ڈپوؤں میں آگ لگ گئی، جس کے باعث دھویں کے شعلوں نےطرابلس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

قذافی کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد لیبیا کو درپیش تشدد کی ایک تیز لہر تھی۔

ایسے میں اس بات کا خوف بڑھتا جارہا ہے کہ کہیں لڑائی سارے معاشرے کو نہ اپنی لپیٹ میں لے لے، جس کے نتیجے میں متعدد ممالک نے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلا لیا ہے، اور اپنے سفارت خانے بند کر دیے ہیں۔

ہفتے کے روز سے ہوائی اڈے پر جاری لڑائی اُس وقت شروع ہوئی جب تبروک کے مشرقی شہر میں لیبیا کے نئے منتخب پارلیمان کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا۔


اجلاس کے لیے سخت سکیورٹی کے ماحول میں پارلیمان کے 150 سے زائد ارکان اکٹھے ہوئے، جس نشست کی سربراہی قائم مقام اسپیکر، ابو بکر بائرا نے کی۔


بائرا نے کہا کہ پارلیمنٹ کا باضابطہ افتتاحی اجلاس پیر تک مؤخر کیا گیا ہے، ایسے میں جب مشکل تر سکیورٹی صورت حال کے باعث ہفتے کے اجلاس میں کچھ قانون ساز شریک نہیں ہو پائے۔

اطلاعات سے پتا چلتا ہے کہ وہ قانون ساز جو اجلاس میں نہیں پہنچ سکے تھے، اُن میں اسلام پسند ارکان بھی شامل تھے، جس سے جاری سیاسی تقسیم کے ماحول کے سلسلےکا گمان ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG