رسائی کے لنکس

لیبیا کی فوج کی ترک مال بردار جہاز پر گولہ باری


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس جہاز پر اس وقت گولہ باری کی گئی جب وہ بحیرہ روم میں درنہ کے قریب واقع طبرق بندرگاہ کے قریب آ رہا تھا۔

لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی وفادار فوجوں نے کہا کہ انہوں نے لیبیا کے ساحل کے قریب ایک ترک بحری جہاز پر گولہ باری کی جس سے عملے کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔

لیبیا کی فوج کے مطابق اس جہاز کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ ساحل پر نہ آئے۔ ترکی نے اس حملے کو ’’قابلِ نفرت‘‘ قرار دیا ہے۔

شمالی افریقہ میں واقع تیل کے ذخائر رکھنے والے ملک لیبیا میں دو حریف حکومتیں اپنے وفادار مسلح گروہوں کی مدد سے ملک کے اقتدار اور اس کی بندرگاہوں پر قبضے کی جنگ میں مصروف ہیں۔ چار سال قبل باغیوں نے معمر قذافی کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا تھا جس کے بعد سے ملک انتشار کا شکار ہے۔

لیبیا کے فوجی ترجمان محمد حجازی نے خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کو بتایا کہ اتوار کو مال بردار جہاز کو مشرقی شہر درنہ آنے کی پابندی توڑنے سے منع کیا گیا جس کے بعد اسے ساحل سے دس میل دور نشانہ بنایا گیا۔

لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے کہا ہے کہ وہ درنہ آنے والے جہازوں کو نشانہ بنائے گی تاکہ وہاں موجود اسلامی عسکریت پسندوں تک رسد نہ پہنچنے پائے۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس جہاز پر اس وقت گولہ باری کی گئی جب وہ بحیرہ روم میں درنہ کے قریب واقع طبرق بندرگاہ کے قریب آ رہا تھا۔ اس کے بعد جب اس نے علاقہ چھوڑنے کی کوشش کی تو اس پر فضائی حملہ کیا گیا۔

’’ہم اس قابلِ نفرت حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں جس میں ایک شہری جہاز کو بین الاقوامی پانیوں میں نشانہ بنایا گیا۔‘‘ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ انقرا نے لیبیا کے حکام سے اس پر احتجاج کیا ہے۔

ترکی کے بیان کے مطابق ٹیونا 1 جہاز پر حملے میں عملے کا ایک رکن ہلاک جبکہ دیگر ارکان زخمی ہوئے ہیں۔

بیان میں حملہ آوروں کی وضاحت نہیں کی گئی مگر کہا گیا ہے کہ جہاز سپین سے طبرق پلاسٹر بورڈ لے جا رہا تھا اور اپنی منزل سے 13 میل دور تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا۔

XS
SM
MD
LG