رسائی کے لنکس

لیبیا: طرابلس میں جھڑپیں، 13 افراد ہلاک


فائل

فائل

دارالحکومت کے مختلف علاقوں پر قبضے کے لیے نجی ملیشیاؤں کے مابین باہم محاذ آرائی اور مسلح تصادم معمول بن گیا ہے جس سے عام شہری سخت پریشان ہیں۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں قبائلی جنگجووں، مسلح شہریوں اور پولیس کے مابین کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 130 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

گزشتہ 10 روز میں یہ اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے جس سے لیبیا میں مسلح ملیشیاؤں کے بڑھتے ہوئے کردار اور اس پر عام شہریوں کی تشویش کا اظہار ہوتا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت کے مختلف علاقوں پر قبضے کے لیے نجی ملیشیاؤں کے مابین باہم محاذ آرائی اور مسلح تصادم معمول بن گیا ہے جس سے عام شہری سخت پریشان ہیں۔

حکام کے مطابق جمعے کو جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک ملیشیا کے جنگجووں نے ان سیکڑوں عام شہریوں پر فائر کھول دیے جو دارالحکومت سے مسلح گروہوں کی واپسی کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق اس کے ایک رپورٹر نے اپنی آنکھوں سے ملیشیا کے جنگجووں کو مظاہرین پر طیارہ شکن گن سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھاہے۔

'رائٹرز' کے مطابق جنگجووں کی جانب سے فائرنگ کے بعد مظاہرین میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ منتشر ہوگئے۔ لیکن کچھ دیر بعد مظاہرین کی بڑی تعداد نے بھاری اسلحے سے لیس ہوکر اس احاطےپر ہلہ بول دیا جہاں سے ان پر فائرنگ کی گئی تھی۔

ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق احاطے میں لیبیا کے وسطی ساحلی قصبے مصراتہ سے تعلق رکھنے والی ایک ملیشیا کے جنگجو موجود تھےا ور انہوں نے ایک رات قبل ہی علاقے پر قبضہ کیا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین کی جانب سے حملے کے بعد لیبیائی فوج کے اہلکار بھی جائے واقعہ پر پہنچے جہاں انہوں نے مظاہرین کے ہجوم اور ملیشیا کے جنگجووں کے درمیان جاری جھڑپوں اور تصادم کو روکنے کی کوشش کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکاروں نے متاثرہ علاقے کی جانب جانے والی سڑکیں بند کردی ہیں تاکہ مزید مظاہرین کو علاقے کا رخ کرنے سے روکا جاسکے۔ جائے واقعہ سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علاقے کی صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہے اور لیبیا کی فضائیہ کے جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر دارالحکومت کی فضا میں گشت کر رہے ہیں۔

ایک فوجی ترجمان کے مطابق جائے واقعہ پہ موجود فوجی اہلکار اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عام شہریوں کے حملے کا نشانہ بننے والی ملیشیا کے جنگجو اپنی مدد کے لیے مزید جنگجووں کو لے کر بدلہ لینے نہ پہنچ جائیں۔

'رائٹرز' کے مطابق طرابلس کے اسپتالوں میں زخمیوں کی تعداد خاصی زیادہ ہے اور اسپتالوں کا عملہ عام شہریوں سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کر رہا ہے۔

واقعے کے بعد لیبیا کے وزیرِاعظم علی زیدان نے کہا ہے کہ دارالحکومت میں موجود تمام ملیشیاؤں کو شہر خالی کرنا ہوگا۔

طرابلس میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ فوج اور پولیس کے اہلکاروں کے علاوہ مسلح افراد کی موجودگی انتہائی خطرناک ہے اور اسی لیےدارالحکومت میں موجود تمام جنگجووں کو شہر سے چلے جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ لیبیا میں نجی ملیشیاؤں اور قبائلی لشکروں نے دو سال قبل اس وقت کے صدر معمر قذافی کا تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد ان لشکروں نے غیر مسلح ہونے سے انکار کردیا تھا اور اس کے بعد سے ان کے مابین علاقوں کی تقسیم اور وسائل پر قبضے کے لیے جھڑپیں معمول کی بات ہیں۔

لیبیا کی حکومت مسلح ملیشیاؤں کے جنگجووں کو ملک کی پولیس اور فوج میں بھرتی کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے لیے کئی جنگجووں کو سرکاری خزانے سے تنخواہ بھی دی جاتی ہے۔

لیکن اس کے باوجود کوئی منظم انتظامی ڈھانچہ نہ ہونے کے باعث ان جنگجووں کی وفاداریاں اب بھی سرکاری حکام کے بجائے اپنے متعلقہ کمانڈروں اور قبیلوں کے ساتھ ہیں۔
XS
SM
MD
LG