رسائی کے لنکس

ایک مشترکہ بیان میں امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقوں کو چاہیئے کہ وہ طاقت کے استعمال سے احتراز کریں اور اپنے اختلافات کو ’سیاسی ذرائع‘ سے حل کریں

امریکہ کے علاوہ، لیبیا میں چوٹی کے یورپی سفارت خانوں نے ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کے معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، جہاں متحارب ملیشیاؤں کے مابین جھڑپیں جاری ہیں، جِن کے باعث کم از کم 70 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

جمعے کے دِن ایک مشترکہ بیان میں امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقوں کو چاہیئے کہ وہ طاقت کے استعمال سے احتراز کریں اور اپنے اختلافات کو ’سیاسی ذرائع‘ سے حل کریں۔

اُنھوں نے لیبیا پر بھی زور دیا کہ جتنا جلد ممکن ہو پارلیمانی انتخابات منعقد کرائے جائیں، تاکہ تعطل دور کیا جا سکے۔

حکومتی افواج اور منہ زور سابقہ جنرل نے ان خدشات کا اعادہ کیا ہے کہ لیبیا خانہ جنگی کی نذر ہوجائے گا۔ ریٹائرڈ جنرل، خلیفہ ہفتار اپنے آپ کو قوم پرست کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو، بقول اُن کے، لیبیا کو مذہبی انتہا پسندی کی دلدل میں دھنسنے سے بچانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

سنہ 2011کے انقلاب کے بعد سے لیبیا میں کسی حد تک بدترین لڑائی دیکھی ہے، جس میں ایک طویل عرصے سے لیبیا پر مطلق العنانی کے ساتھ حکمرانی کرنے والے، معمر قذافی کا تختہ الٹا گیا تھا۔

اس ہفتے کے اوائل میں، لیبیا کی انتخابی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ 25 جون کو قومی پارلیمانی انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔ لیبیا کا پارلیمان اسلام پسندوں اور اسلام مخالف دھڑوں میں بٹا ہوا ہے۔

جب سے معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹایا گیا، ملک میں دائمی بے چینی کی سی صورت حال جاری ہے۔
XS
SM
MD
LG