رسائی کے لنکس

عالمی ادارہٴ صحت کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر 2015ء میں پیدا ہونے والے بچوں کی متوقع اوسط عمر لگ بھگ پانچ برس بڑھی ہے اور ان بچوں کی متوقع عمر 71 سال ہے

عالمی ادارہٴ صحت کی تازہ ترین رپورٹ سےظاہر ہوتا ہےکہ پچھلے ڈیڑھ عشرے کے مقابلے میں اب انسانوں کی زندگی زیادہ لمبی ہوگئی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یا 'ڈبلیو ایچ او' کی طرف سے جمعرات کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 15 برسوں میں دنیا بھر کے لوگوں کی متوقع اوسط عمر میں تقریباً پانچ سال کا اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں جاپان کی عورتوں اور سوئٹزرلینڈ کے مردوں کی زندگیاں سب سے طویل ہیں، جبکہ سیر الیون میں مرد اور عورت دونوں کی عالمی سطح پر کم متوقع عمر ہے۔

عالمی صحت کے ادارے کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر 2015ء میں پیدا ہونے والے بچوں کی متوقع اوسط عمر لگ بھگ پانچ برس بڑھی ہے اور ان بچوں کی متوقع عمر71سال ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ 1960ء کی دہائی کے بعد سے یہ اب تک سب سے تیز ترین پیش رفت ہے، جو سنہ 2000 سے 2015 کے درمیانی 15 برسوں میں دیکھنے میں آئی ہے۔

اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر میں 2015ء میں پیدا ہونے والی لڑکیوں کی متوقع زندگی 73.8 سال اور لڑکوں کی متوقع عمر 69.1 رہے گی۔

عالمی ادارہٴ صحت کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہےکہ دنیا بھر میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی زندگی طویل ہے جیسا کہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1990 کی دہائی میں دونوں صنفوں کے درمیان متوقع اوسط عمر میں 4.5 سالوں کا فرق تھا اور پچھلے ڈیڑھ برسوں میں یہ فرق لگ بھگ ایک ہی جیسا رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی شماریات کی رپورٹ 194 ممالک کے لوگوں کی شرخ اموات، وہاں دستیاب ادویات اور علاج اور صحت کے شعبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری صحت اور اہم بیماریوں کے اعداد و شمار پر مشتمل ہےجس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پیدائش کے وقت متوقع عمر آبادی کی مجموعی شرح اموات کی سطح کی عکاسی کرتی ہے۔

دنیا کے مختلف خطوں میں متوقع عمر:

ڈبلیو ایچ او کے مطابق سنہ 2000 سے 2015 کے درمیانی عرصے میں اقوام متحدہ کے افریقی خطے میں لوگوں کی متوقع اوسط عمر میں سب سے بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں متوقع عمر 9.4سال بڑھی ہے، جس کی بڑی وجہ وہاں بچوں کی صحت کی دیکھ بھال میں بہتری اور ملیریا جیسی بیماریوں کے لیے بہتر ادویات کی دستیابی ہے۔

متوقع عمر کے ٹیبل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحیرہٴ روم کے خطے میں قطر میں لوگوں کی متوقع زندگی سب سے طویل ہے۔جن کی متوقع عمر 78.2 ہے۔

اس خطے میں طویل متوقع عمر کے لحاظ سے پاکستان کا نمبر 15 واں ہیں۔ جہاں 2015 میں پیدا ہونے والے بچوں کی متوقع زندگی 66.4 سال ہے جبکہ اس خطے میں سب سے کم متوقع عمر صومالیہ کے لوگوں کی ہے۔

علاوہ ازیں کینیڈا میں 2015میں پیدا ہونے والے بچوں کی متوقع عمر 82.2 سال ہے اور امریکہ کے لوگوں کی متوقع زندگی 79.3 برس ہے۔

جنوب مشرقی خطے میں مالدیپ کے لوگوں کی متوقع عمر طویل ہے اس کے برعکس اس خطے میں میانمار کے لوگوں کی کم متوقع زندگی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مغربی پیسفک خطے میں جاپان کے لوگوں کی عمر سب سے زیادہ لمبی ہے یہاں کے لوگوں کی متوقع عمر 89.7 برس ہے، خاص طور پر جاپان کی عورتوں کی متوقع زندگی 86.8 سال ہوگی۔

علاوہ ازیں، جن ملکوں میں عورتوں کی متوقع عمر لمبی ہے ان میں جاپان کے بعد سنگاپور، اسپین، کوریا، فرانس، سوئٹزرلینڈ، آسٹریلیا، اٹلی، اسرائیل اور آئس لینڈ کے ممالک شامل ہیں۔

یورپ کے خطے میں سوئٹزرلینڈ میں پچھلے سال پیدا ہونے والے بچوں کی متوقع عمر 83.4 سال اور برطانیہ میں متوقع عمر 81.2 سال ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر سوئٹزرلینڈ میں مردوں کی متوقع زندگی سب سے لمبی یعنی 81.3 برس ہے۔

دریں اثنا، سوئٹزرلینڈ کے بعد آئس لینڈ دوسرا ملک ہے جہاں مردوں کی متوقع عمر 81.2 سال ہے جس کے بعد بالترتیب اس فہرست میں آسٹریلیا، سویڈن، اسرائیل، جاپان، اٹلی، کینیڈا، اسپین اور سنگاپور شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG