رسائی کے لنکس

محققین کا کہنا ہے کہ مزاح مرد اورعورت دونوں کی کمزوری ہو سکتا ہے لیکن جیون ساتھی کے انتخاب میں دونوں کے لیے اس کا مطلب مختلف ہے۔

ایک نئے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین شریک حیات کے انتخاب میں زیادہ نخریلی واقع ہوئی ہیں، جنھیں جیون ساتھی کے روپ میں ایک ایسے مرد کی تلاش ہوتی ہے، جو انھیں اپنی باتوں سے ہنسانا جانتا ہو۔

محققین کا کہنا ہے کہ مزاح مرد اورعورت دونوں کی کمزوری ہو سکتا ہے لیکن جیون ساتھی کے انتخاب میں دونوں کے لیے اس کا مطلب مختلف ہے۔

امریکی تحقیق دانوں کے مطالعے میں 80مرد اور خواتین نے دو مختلف طرح کے تجربات میں حصہ لیا، شرکاء سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایک ایسا ساتھی پسند کرتے ہیں جو اپنی گفتگو سے انھیں خوش وخرم رکھنا جانتا ہو ؟

محققین نے شرکاء سے دوسرے سوال میں پوچھا گیا کہ ان کے لیے حس مزاح رکھنے والا ساتھی کتنا ضروری ہے؟

میامی یونیورسٹی کے شعبئہ نفسیات سے وابستہ محقق لیانا ہون اور ان کی ٹیم نے کہا کہ خواتین کے جوابات سے انکشاف ہوا کہ ان کی ترجیح ایسا مرد تھا جو انھیں اپنی باتوں سے مسکرانے پر مجبورکر سکتاہو۔

لیکن اس نتیجے کے برخلاف مردوں کے جوابات سے ظاہر تھا کہ انھیں جیون ساتھی کے طور پر ایسی خاتون پسند تھی، جو ان کے لطیفوں اور چٹکلے سننے پر آمادہ ہو اور ان پر ہنسنا جانتی ہو بجائے۔

جائزہ رپورٹ سے پتہ چلا کہ خواتین صرف ایک ایسا ساتھی نہیں چاہتی ہیں، جو انھیں اپنی دلچسپ گفتگو سے خوش رکھے بلکہ وہ چاہتی ہیں کہ خود ان کے مزاح کی بھی تعریف کی جائے ۔

دوسری جانب محقق ولیم ہاروٹز نےکہا کہ مردوں کے لیے ساتھی کے انتخاب میں مزاح میعار کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ تحقیق میں یہ وضاحت نہیں ہوئی کہ مرد اور عورت کے درمیان یہ طرز عمل اسقدر مضبوط کیوں ہے ۔

سائنسی جریدے' ایوالوشنری سائیکلوجی' میں محقق لیانا لکھتی ہیں کہ ’’ہماری مثالی دنیا میں ہم اپنے ساتھی کے لیے مزاح میں دونوں طرح کی خوبیوں کو پسند کرتے ہیں، لیکن حقیقی دنیا میں ہم ان میں سے ایک زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔‘‘

​مطالعے کی مصنف پروفیسر لیانا ہون کےخیال میں ’’خواتین لوگوں کو ہنسنے ہنسانے کے فن کو مرد کی ذہانت کی علامت سمجھتی ہیں۔‘‘

​بقول پروفیسر لیانا ہون ’’حس مزاح کسی شخص کی اعلی لسانی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ خواتین سمجھتی ہیں کہ شریک حیات کےطور پر ایسے مرد کے ساتھ ان کی ذہنی مطابقت زیادہ بہتر ہو سکتی ہے‘‘۔

​جائزہ سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے محققین نے کہا کہ ’’مزاح کا ہمارا معاشرے میں کیا کردار ہے اس کو سمجھنے کے لیے ہم جیسے جیسے اپنی تحقیق میں آگے بڑھے تحقیق کے اعداد و شمار سے تصدیق ہوئی کہ بنیادی طور پرعورت اور مرد کے درمیان مزاح کی ترجیح مختلف ہوتی ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG