رسائی کے لنکس

ایران پر تعزیرات کا خاتمہ خطے کے لیے سود مند ہو گا: پاکستانی قانون ساز

  • عشرت سلیم

پاکستان اور ایران کے دیرینہ اقتصادی روابط رہے ہیں اور ایران پر پابندیوں اور شدید عالمی دباؤ کے باوجود دونوں ممالک نے ایران سے پاکستان قدرتی گیس کی درآمد کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔

پاکستان کے قانون سازوں نے یورپی یونین اور امریکہ کی طرف سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے میں امن و استحکام پیدا ہوگا۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والے جوہری معاہدے کے تحت ایران کی طرف سے اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کے اقدامات کے بعد ایک روز قبل ہی یورپی یونین اور امریکہ نے اس پروگرام سے متعلق اقتصادی پابندیاں ہٹا لی تھیں۔ امید ہے کہ اقوام متحدہ بھی پابندیاں ہٹانے کے لیے جلد سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرے گی۔ ان تعزیرات سے ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

عالمی طاقتوں کا مؤقف تھا کہ ایران جوہری پروگرام کو ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ تاہم ایران کا کہنا تھا کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

پاکستان کے سابق وفاقی وزیر داخلہ اور رکن قومی اسمبلی آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے اس پیش رفت سے پاکستان اور ایران کے اقتصادی روابط مضبوط ہونے کے علاوہ خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

’’ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ بہت اچھی بات ہے۔ ہمارے ساتھ جو تعلق ہے ایران کا، خاص کر جو اقتصادی روابط ہیں (وہ مضبوط ہوں گے)۔ ایک تو گیس پائپ لائن ہے اور بجلی بھی ہم لے سکتے ہیں ایران سے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایک استحکام آ جائے گا اس علاقے میں۔ وہ جو تناؤ تھا مغربی ممالک اور ایران کے درمیان اس تناؤ میں بھی کمی آئے گی، تو اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ اس سے مجموعی طور پر بہت فائدہ اس علاقے کو پہنچے گا۔‘‘

پاکستان اور ایران کے دیرینہ اقتصادی روابط رہے ہیں اور ایران پر پابندیوں اور شدید عالمی دباؤ کے باوجود دونوں ممالک نے ایران سے پاکستان قدرتی گیس کی درآمد کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔

گزشتہ سال جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد پاکستان کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہاپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وہ گیس پائپ لائن منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے پائپ لائن بچھانے کا بیشتر کام مکمل کر لیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت ایران کے جنوب میں واقع پارس گیس کے ذخائر سے کراچی تک ایک پائپ لائن بچھائی جائے گی جس کا بیشتر حصہ ایران اپنے ملک میں پہلے ہی مکمل کر چکا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور رکن قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پابندیوں کے خاتمے سے ایران کے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں اور دہشت گردی کے خلاف اس کے کردار سے بھی عالمی سطح پر خاصی مدد مل سکے گی۔

’’میں بحیثیت ایک پاکستانی کے اس کو خوش آئند سمجھتا ہوں۔ اس وقت بہت بڑا جو چیلنج ہے وہ داعش کا ہے۔ اور ایران کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ وہ اس تنظیم کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں رکھتے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس تنظیم کو قابو میں لانے کے لیے وہ اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں تو انہیں یہ کردار ادا کرنا چاہیئے۔‘‘

دریں اثنا پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف منگل کو ایران کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ سعودی عرب کے ساتھ ایران کی کشیدگی کو کم کرنے سے متعلق بات چیت کریں گے۔ توقع ہے کہ ایران پر پابندیاں ختم ہونے کے بعد تناظر میں وہ تہران اور اسلام آباد کے مابین اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر بھی گفتگو کریں گے۔

XS
SM
MD
LG