رسائی کے لنکس

لیو شیاؤبو کو امن نوبیل انعام دینا غلط اقدام ہے: چین

  • سٹیفنی ہو
  • جمیل اختر

لیو شیاؤبو کو امن نوبیل انعام دینا غلط اقدام ہے: چین

لیو شیاؤبو کو امن نوبیل انعام دینا غلط اقدام ہے: چین

چین نے کہا ہے کہ کئی ممالک اوربین الاقوامی تنظیموں نے اس کے اس موقف کی حمایت کی ہے کہ نوبیل کمیٹی کو اس سال کا امن نوبیل انعام جیل میں اپنی سزاکاٹنے والے باغی لیو شیاؤ بوکو نہیں دینا چاہیے تھا۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان جیانگ یو نے منگل کے روز ایک بار پھر حکومت کے اس موقف کو دوہرایا کہ لیو شیاؤبو کو امن کے نوبیل انعام سے نوازنا ، جسے چینی حکومت ایک مجرم سمجھتی ہے، ایک غلط اقدام ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ صرف چین کا ہی موقف نہیں ہے۔

جیانگ نے کہا کہ ایک سو سے زیادہ ممالک اور تنظیموں نے اس معاملے پر چین کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ ترجمان نے انہیں انصاف کے حامی قرار دیا ۔

ترجمان نے کسی ملک یا تنظیم کا نام نہیں لیا اور نہ ہی ان کی کوئی فہرست پیش کی۔

لیو شیاؤبو، جنہیں پچھلے سال ایک چینی عدالت نے بغاوت کے جرم پر سزا سنائی تھی، جیل میں 11 سال قید کاٹ رہے ہیں۔

لیو کو 2008ء کے آخر میں ، ان کے چارٹر 08 کے اجراسے کچھ پہلے گرفتار کر لیا تھا۔ چارٹر میں آزادی اظہار اور بڑے پیمانے پر سیاسی اصلاحات پر زور دیا گیا تھا۔ وہ چارٹر 08 کے مرکزی مصنفین میں سے ایک تھے اور ہزاروں چینیوں نے انٹرنیٹ پر اپنے دستخطوں کے ذریعے اس چارٹر کی حمایت کا اعلان کیاتھا۔

نوبیل کمیٹی کا کہناہے کہ ممکن ہے کہ وہ یہ ایوارڈ اس سال نہ دے سکیں کیونکہ چینی حکام لیو کی اہلیہ اور رشتے داروں کو جمعے کے روز تقسیم انعامات کی تقریب میں شرکت کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔

روایتی طور پر نویبل کمیٹی نے اوسلومیں تقسیم انعامات کی تقریب میں تمام 65 ممالک اور وہاں کے سفارت کاروں کو شرکت کی دعوت دی ہے۔ جن میں سے 44 ممالک اس تقریب میں شریک ہورہے ہیں جب کہ دو ملکوں نے ابھی دعوت نامے کا کوئی جواب نہیں دیا اور 19 ممالک شرکت سے معذوری کا اظہار کرچکے ہیں۔

اسی سلسلے میں کمیٹی کے ایک پریس ریلز میں کہا گیا ہے کہ 2008ء میں مارتی اہتساری کوامن ایوارڈ دیے جانے کی تقریب میں 10 سفارت خانوں نے شرکت نہیں کی تھی۔

چینی ترجمان خاتون جیانگ نے نوبیل کمیٹی پر چین مخالف ڈرامہ سجانے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین ان ممالک کے اس اقدام کی مخالفت کرتا ہے جولیو شیاؤبوکے مقدمے کو ایک مسئلہ بنانے اور اسے چین کے اندورنی معاملات میں مداخلت کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ چین اپنے استحکام اور ترقی کے ذریعے پہلے ہی اس نکتہ چینی کا جواب دے چکا ہے کہ ملک درست سمت میں آگے نہیں بڑھ رہا۔

XS
SM
MD
LG