رسائی کے لنکس

کراچی میں پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر، باجوڑ سے تعلق رکھنے والی 26 بچیوں کو بازیاب کرا لیا ہے۔

اطلاع ملنے پر، منگل کی صبح، کراچی کے علاقے لیاقت آباد کے ایک مکان پر پولیس نے چھاپہ مارا، جہاں سے یہ کم سن لڑکیاں برآمد کی گئیں۔

لیاقت آباد کے سپرانٹنڈنٹ پولیس، نعمان صدیقی نے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں بتایا کہ 'یہ بچیاں جمشید ٹاون کے ایک خاتون کے مدرسے کی طالبات ہیں، جس شخص کے گھر سے یہ بچیاں برآمد کی گئی ہیں اس شخص نے ان بچیون کے استانی سے کچھ رقم قرض لی تھی۔ تاہم، قرض کی ادائیگی نا کرنے پر، خاتون ان بچیوں کو اس شخص کے گھر پر چھوڑ گئی۔'

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ مدرسے کی استانی نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا ہے کہ گھر کے مالک یعقوب نامی شخص نے ان خاتون سے ڈیڑھ لاکھ روپے رقم ادھار لے رکھی تھی۔ جو واپس نہیں کی۔

پولیس کے مطابق، اس خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ان بچیوں کی کفالت کیلئے کوئی رقم نہیں۔اس لئے، ان بچیوں کو اس شخص کے گھر پر چھوڑ دیا تھا۔

ادھر بچیوں کی بازیابی کی خبر میڈیا پر نشر ہونے کےبعد گورنر خیبرپختونخوا سردار مہتاب نے وزیر اعلی سندھ، سید قائم علی شاہ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے اور بچیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

اس حوالے سے صوبہ سندھ کی وزیر برائے ترقی نسواں روبینہ قائم خانی کا کہنا ہے کہ بچیوں کو والدین تک پہنچانے کے عمل تک ان کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت سندھ کی ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ 'کراچی کے ایک گھر سے بازیاب ہونے والی تمام بچیوں کے باجوڑ کے مکین اُن کے والدین سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ بچیوں کے والدین اور انکی مکمل حفاظت اور شناخت کے بعد ہی بچیوں کو صرف والدین کے حوالے کیا جائے گا۔ بچیوں کے والدین حوالگی تک بچیاں سندھ حکومت کی سرپرستی میں رکھی جائیں گی'۔

بتایا جاتا ہے کہ 26 معصوم بچیاں ایک خاتون کے گھر میں بنائے گئے مدرسے میں پڑھتی ہیں۔ ان کا تعلق، قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے بتایا جاتا ہے یہ بچیاں باجوڑ سے کراچی میں مدرسے کی دینی تعلیم حاصل کرنے لائی گئی تھیں، جن کی عمریں 8 سے 10 سال ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچیوں کے معاملے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں.

XS
SM
MD
LG