رسائی کے لنکس

انڈونیشیا: فلم ’لٹل اوباما ‘ کی نمائش


انڈونیشیا: فلم ’لٹل اوباما ‘ کی نمائش

انڈونیشیا: فلم ’لٹل اوباما ‘ کی نمائش

صدر براک اوباما نے اپنے بچپن کا کچھ عرصہ انڈونیشیا میں گذارا ہے اور اپنی بچپن کی ان خوشگوار یادوں کا ذکر وہ کئی موقعوں پر کرچکے ہیں۔ ماضی کی ان یادوں کو تازہ کرنے کے لیے وہ انڈونیشیا کے دورے پر جانا چاہتے ہیں۔ اور وہاں ان کے دورے کا بڑی شدت سے انتظار کیا جارہاہے۔

حال ہی میں جکارتہ میں صدر اوباما کے لڑکپن کے حوالے سے ایک فلم کی نمائش کی گئی ہے جس کا نام ہے لٹل اوباما۔ یہ فلم ان دنوں کی کہانی سناتی ہے جب اوباما انڈونیشیا میں مقیم تھے۔ ہدایت کار کا کہنا ہے کہ اس فلم میں نوعمر اوباما سے آج کے صدر اوباما تک کے سفر کوپیش کیا گیا ہے۔

فلم لٹل اوباما کے پریمیئر کے موقع پر اس اسکول کے بچوں نے نغمے گائے اور رقص کیا ، جہاں صدر اوباما اپنے بچپن میں زیر تعلیم تھے۔ تقریب میں شریک لوگوں نے صدر اوباما کے ہم شکل اداکار کے ساتھ تصویریں بنوائیں ۔

فلم کا وہ حصہ سب سے اہم تھا جس میں اس دور کی عکاسی کی گئی تھی جب 1970ء کے اوائل میں اوباما جکارتہ میں رہتے تھے اور زندگی سے سیکھ رہے تھے۔ مثلاً انڈونیشیا میں اپنےسوتیلے والد سے بوقت ضرورت لڑائی ، اور اپنی ماں سے یہ سیکھنا کہ اچھی زندگی گذارنے کا بہتر طریقہ لوگوں کی غلطیوں اور زیادتیوں سے درگذر کرنا ہے۔ فلم میں ایکشن کے ساتھ ساتھ رومانس کا رنگ بھی موجود ہے ۔فلم ڈائریکٹر دامین دماترا کا کہنا ہے کہ فلم میں اصل واقعات کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ایک پیغام بھی موجود ہے۔

فلم میں صدر اوباما کاکردار امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک 12 سالہ لڑکے حسن فاروق علی نے ادا کیا ہے ۔حسن فاروق نے اس سے قبل کسی فلم میں اداکاری نہیں کی۔ صدر اوباما کی طرح فارق علی بھی مختلف النسل والدین کی اولاد ہیں ، جو اس وقت امریکہ چھوڑ کر انڈونیشیا چلے گئے تھے ، جب فاروق ابھی شیر خوار ہی تھے۔

اس فلم میں کئی تحفظات کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ ریلز ہونے سے قبل فلم میں ایسے مناظر بھی موجود تھے جن میں نوعمر اوباما کو مسلمانوں کی طرح عبادت کرتے ہوئے دکھایا گیاتھا۔ تاہم ریلز ہونے سے قبل وہ سین فلم سے نکال دیا گیا ، کیونکہ پروڈیوسر کا خیال ہے کہ یہ بہت سیاسی ہوجائے گا۔

XS
SM
MD
LG