رسائی کے لنکس

لیوشاؤبو کا امن نوبیل انعام اورشہری حقوق

  • الزبتھ لی
  • آمنہ خان

لیوشاؤبو کا امن نوبیل انعام اورشہری حقوق

لیوشاؤبو کا امن نوبیل انعام اورشہری حقوق

اس سال امن کا نوبیل انعام چین کےایک جمہوریت نواز سرگرم کارکن لیو شاؤ بو کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو اپنی ایک تصنیف کے باعث گیارہ سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔چین اس فیصلے پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرچکاہے ۔جبکہ امریکی ایوان ِ نمائندگان نےایک قرارداد پاس کرتے ہوئے لیو شائو بو کو نوبل انعام ملنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ قرارداد میں چین پر زور دیا گیا ہے کہ انہیں رہا کیا جائے۔

ناروے میں ہونے والی ایوارڈ کی تقریب میں نوبیل کمیٹی کے مطابق پاکستان ، روس، سعودی عرب، عراق اور ایران شرکت نہیں کررہے۔ 1989ء میں تیانامن اسکوائر میں طالب علموں کے تاریخی احتجاج میں حصہ لینے والے انسانی حقوق کے ایک اور سرگرم کارکن جیا باؤ بھی جیل میں قید کاٹ رہے ہیں ۔ اس وقت ہم آپ کی ملاقات کروا رہے ہیں، دو ایسے چینی باشندوں سے جو اب اگرچہ چین میں تو نہیں رہ رہے مگر اس ملک کے ماضی ، حال اور مستقبل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

1989ٕءمیں چینی دارالحکومت بیجنگ کے تیانامن اسکوائرمیں جمہوریت کے لیے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی تحریک کو چینی حکومت نے سختی سے کچل دیا تھا۔

زانگ بولی جو اس مظاہرے میں شامل تھے، کہتے ہیں کہ چین میں ان کا سب کچھ لٹ گیا لیکن انہیں مذہب نے تقویت دی۔ آج وہ امریکہ میں ایک پادری ہیں۔ ان کا کہنا ہے تیانامن اسکوائرکے مظاہرے کے بعد چین میں بہت تبدیلیاں واقع ہوئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکام نے معیشت پر توجہ دینی شروع کر دی اور لوگوں کو کچھ آزادیاں بھی دیں۔ جب تک آپ حکومت کی مخالفت نہیں کرتے ، آپ کو بہت سی دوسری آزادیاں حاصل نہیں ہوتیں۔

یانگ جیانلی بھی تیانامن اسکوائرکی تحریک میں شامل تھے ۔ امریکہ آنےکے بعد بھی انہوں نے جمہوریت کے لیے اپنا کام جاری رکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ چین میں خوشحالی کی وجہ سے سیاسی نظریات میں بھی تبدیلی یقینا واقع ہوگی۔

وہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں کی زندگی زیادہ آسان ہو، وہ زیادہ مالدار ہوں، تو وہ چاہیں گہ کہ سیاسی عمل میں بھی ان کی آواز زیادہ نمایاں ہو۔

لیکن یانگ کہتے ہیں کہ اس قسم کی تبدیلی فورا ہی پیش نہیں آئے گی بلکہ اسے لوگ رفتہ رفتہ حقیقت بنائیں گے۔ لیو شیاؤبو کے امن نوبیل انعام جیتے پر چینی حکومت کا رد عمل ان کے لیے باعث حیرت نہیں تھا۔

چینی حکومت کا کہنا ہے کہ شیاؤبو کو قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سزائے قید سنائی گئی تھی۔ اس نے جو کچھ کیا وہ نوبیل امن انعام کے مقاصد کی نفی ہے۔ نوبیل پرائز کمٹی کا اس آدمی کو ایوارڈ دینا نہ صرف امن ایوارڈکے مقاصد کے خلاف ہے، بلکہ اس کی توہین بھی ہے۔

یانگ کہتے ہیں کہ سطحی طور پر چینی حکومت نے انعام کے اعلان کے بعد مزید سختیاں کر دی ہیں۔ لیکن اس کے پس منظر میں سماج میں جو تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں، انہیں ہم بعض اوقات نظر انداز کر دیتے ہیں۔

نوبیل کمیٹی کے اعلان کے کچھ ہی دنوں بعد چینی کمیونسٹ پارٹی کے کچھ سابق افسران نے حکومت سے آزادی اظہار رائے کا مطالبہ کیا۔

یانگ کا کہنا ہے کہ لیو شیاؤبو کا یہ انعام جیتنا اور کمیونسٹ پارٹی کے سابق افسران کا آزادئ اظہار رائے کا مطالبہ کرنا۔ شاید یہ دو واقعات خود کسی تبدیلی کا سبب نہ ہوں، لیکن یہ تبدیلی کی علامت ضرور ہیں۔

جمہوریت کے سرگرم کارکن کہتے ہیں کہ چین کے شہریوں کو مزید آزادیاں دونوں بین الاقوامی کمیونٹی اور چین کے شہریوں کی طرف سے دباوکے نتیجے میں ہی ملیں گی۔ یانگ کو یقین ہے کہ نوجوان بھی اس عمل میں بہت اہم کردار ادا کریں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آج کل کے طلبہ ہماری نسل سے زیادہ خود مختار ہیں۔ وہ شاید جمہوریت اور چینی حکومت، دونوں میں سے کسی کی حمایت نہ کریں۔ ان کے نظریات حقائق اور مسائل پر منحصر ہیں۔

زانگ کو بھی مستقبل سے بہتری کی امید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ چین جمہوریت کی طرف گامزن ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ بہتری کے مواقع میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

لیکن یانگ اور زانگ دونوں سمجھتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں چین میں وقت کے ساتھ ساتھ ہی واقع ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG