رسائی کے لنکس

گزشتہ روز پانی و بجلی کے وفاقی وزیر عابد شیر علی نے یہ انکشاف کرکے سب کو چونکا دیا کہ ایوان صدر، وزیراعظم ہاوٴس اور پارلیمنٹ بھی نادہندہ ہے۔ لہذا، پارلیمنٹ کی بجلی منقطع کردی گئی

پاکستان میں گرمی آتے ہی جو مسئلہ سب سے زیادہ گمبھیر ہوجاتا ہے وہ لوڈ شیڈنگ ہے۔
ملک بھر میں اس کے خلاف احتجاج ہوتے ہیں۔ اکثر یہ احتجاج توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی میں بھی بدل جاتا ہے، کیوں کہ بجلی سب کو چاہئے ہوتی ہے مگر ملک میں پیداوار کم اور خرچ زیادہ ہے ۔ پھر جتنی بجلی پیدا ہوتی ہے اس کا ایک بڑا حصہ بھی یا تو چوری کرلیا جاتا ہے یا پھر اس کا بل ادا نہیں کیا جاتا۔

گزشتہ روز پانی و بجلی کے وفاقی وزیر عابد شیر علی نے یہ انکشاف کرکے سب کو چونکا دیا کہ ایوان صدر، وزیراعظم ہاوٴس اور پارلیمنٹ بھی نادہندہ ہے۔ لہذا، پارلیمنٹ کی بجلی منقطع کردی گئی تاہم فوری ادائیگی کے بعد بجلی بحال کردی گئی۔

بجلی کی رسد سے متعلق ایک عہدیدار، مہتاب علی جو نارتھ کراچی کے ایک پاور ہاوٴس میں تعینات ہیں، وہ کہتے ہیں: ’اس طرح کی خبروں سے عام صارف کے بھی حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ جب اتنے بڑے پیمانے پر کوئی بل ادا نہیں کر رہا تو وہ کیوں کرے؟ یہی وجہ ہے کہ ملک میں بجلی چوری بڑھ رہی ہے۔‘

کے الیکٹرک کے بلنگ ڈپارٹمنٹ کے اعداد و شمار اس جانب واضح اشارہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ایسے غیر ذمے دار شہریوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے جو بجلی کے میٹر میں ہیر پھیر کرکے پورے پیسے ادا نہیں کرتے۔ لہذا، اس کا توڑ وہ نئے میٹر ہیں جو بہت حد تک فول پروف ہیں اور ان میں ہیر پھیر ممکن نہیں۔ اب جو بھی نئے کنکشن دیئے جارہے ہیں وہاں یہی میٹر نصب کئے جارہے ہیں۔

لیکن، یہ میٹر بھی پوری طرح مسئلے کا حل نہیں۔ ’کے ای ایس سی‘ کے ایک سابق ملازم نور نے ’وی او اے‘ کو بتایا ’کراچی کے بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں گھریلو انڈسٹریز کام کر رہی ہیں۔ اورنگی ٹاوٴن، نیو کراچی اور پرانا گولیمار جیسے گنجان علاقوں میں گھر گھر مشینیں لگی ہیں۔ کہیں کھڈیاں چل رہی ہیں تو کہیں سی ایم ٹی یونٹ یعنی سلائی کے کارخانے۔ ان گھروں میں سے کسی ایک میں بھی کمرشل میٹر نصب نہیں کیوں کہ کمرشل ریٹ پر بجلی مہنگی ہوتی ہے۔‘

شہر کے مختلف علاقوں کے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ شہر کی کئی گنجان اور وسیع و عریض آبادیاں اور بستیاں ایسی بھی ہیں جو ’کنڈا سسٹم‘ پر چل رہی ہیں۔ کنڈا سسٹم سے مراد بجلی کی تاروں سے براہ راست بجلی چوری کرنا ہے۔ کراچی کا علاقہ لائنز ایریا بہت بڑی بستی ہے لیکن پوری کی پوری بستی کنڈا سسٹم پر چل رہی ہے۔ علاقے کے ایک ایک پول پر کئی کئی سو کنڈے پڑے نظر آتے ہیں۔

انگنت مرتبہ ان کی تصاویر اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں لیکن اس کے باوجود آج بھی کنڈا سسٹم کامیابی سے چل رہا ہے۔ ارباب اختیار کو بھی اس بات کا بخوبی علم ہے لیکن کرپشن کے سبب بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کم ہی ہوتی ہے۔

بجلی چوری کا عالم یہ ہے کہ بڑی بڑی تقریبات کنڈا سسٹم کے تحت ہوتی ہیں۔ اس چوری کا نتیجہ یہ ہے کہ الیکٹرک ڈسٹری بیوشن کمپنیز کی تمام پلاننگ فیل ہوجاتی ہے۔ اوور لوڈ زیادہ ہوجاتا ہے کسی علاقے کو کم تو کسی کو بہت زیادہ عتاب جھیلنا پڑتا ہے ۔ حکومت اور اداروں کی بجلی بچت مہمات کبھی کامیاب نہیں ہوپاتیں ، زیادہ بجلی پیداکرنے کے لئے زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے جس کااثر بجلی کے ہر یونٹ پرپڑتا ہے وہ قیمت کے اعتبار سے بڑھ جاتا ہے ۔۔یہاں تک کہ ان کی قوت خرید ختم ہونے لگتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بجلی پہلے کے مقابلے میں زیادہ چوری ہونے لگتی ہے۔
XS
SM
MD
LG