رسائی کے لنکس

اس مرحلے میں پنجاب کے 12 اضلاع کے علاوہ کراچی کے چھ اضلاع میں مقامی حکومت کے نمائندوں کے انتخاب کے لیے پولنگ کے عمل کا آغاز صبح ساڑھے سات بجے ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہا۔

پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے لیے ہفتہ کو ووٹ ڈالے گئے۔

اس مرحلے میں پنجاب کے 12 اضلاع کے علاوہ کراچی کے چھ اضلاع میں مقامی حکومت کے نمائندوں کے انتخاب کے لیے پولنگ کے عمل کا آغاز صبح ساڑھے سات بجے ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہا۔

کراچی میں پولیس کے 35 ہزار اہلکاروں کے علاوہ 7400 رینجرز اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔

پنجاب کے بھی 12 اضلاع جہاں انتخابات ہو رہے ہیں وہاں پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

کراچی میں 1791 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 216 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ کراچی میں اندارج شدہ ووٹوں کی تعداد 70 لاکھ سے زائد ہے۔

کراچی سمیت پنجاب کے مختلف انتخابی اضلاع سے ہاتھا پائی اور مخالفین کے درمیان تصادم کی اطلاعات بھی دن بھر موصول ہوتی رہیں جب کہ بعض مقامات پر پولنگ کے عمل میں بے ضابطگیوں کی شکایات بھی سامنے آئیں۔

مختلف واقعات میں کم ازکم 15 افراد کے زخمی ہونے کا بھی بتایا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کے اسلام آباد میں اپنے مرکزی دفتر میں ایک کنٹرول روم قائم کیا ہےجہاں سے دن بھر انتخابی عمل کی نگرانی کی جاتی رہی۔

اس سے قبل 31 اکتوبر اور 19 نومبر کو پنجاب اور صوبہ سندھ کے بیشتر اضلاع میں دو مراحل میں انتخابات ہو چکے ہیں۔

پہلے اور دوسرے مراحل میں پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے علاوہ آزاد امیدواروں کا پلہ بھاری رہا جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔

XS
SM
MD
LG