رسائی کے لنکس

لندن: ٹرمپ کے مجوزہ دورہ برطانیہ پر بحث، ہزاروں افراد کا مظاہرہ


مظاہرے میں شریک ایک خاتون

مظاہرہ کرنے والوں میں شامل بنجمن کری کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے اور مطمئن ہو کر بیٹھنے سے گریز کرنا چاہیے۔

برطانیہ کی پارلیمنٹ میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملک کا دورہ کرنے کی دعوت واپس لینے یا نہ لینے کے معاملے پر گرما گرم بحث شروع ہوئی تھی کہ ہزاروں افراد لندن میں پارلیمان کی عمارت باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے جمع ہو گئے۔

برطانیہ کی وزیراعظم تھریسا مے، ڈونلڈ ٹرمپ سے بطور امریکی صدر ملاقات کرنے والی پہلی غیر ملکی راہنما تھیں اور اس دوران انھوں نے امریکی صدر کو رواں سال برطانیہ کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔

تقریباً 18 لاکھ افراد نے ایک آن لائن درخواست پر دستخط کیے تھے جس میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا تھا وہ ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ منسوخ کرے۔ اسی معاملے پر بحث کے لیے قانون سازوں کا یہ اجلاس طلب کیا گیا۔

ایک دوسری درخواست میں تین لاکھ افراد نے دستخط کرتے ہوئے امریکی صدر کے دورے کی حمایت کی تھی۔

تاہم پارلیمنٹ میں بحث کے باوجود بھی قانون سازوں کے پاس ایسا اختیار نہیں ہے کہ وہ دورہ برطانیہ کی دعوت واپس لے سکیں۔

حزب مخالف کی لیبرپارٹی کے راہنما پاول فلین نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے ٹرمپ کو "بچکانہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ دورہ سرکاری کی بجائے ایک عام دورہ ہونا چاہیے۔

پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کرنے والوں میں شامل بنجمن کری کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے اور مطمئن ہو کر بیٹھنے سے گریز کرنا چاہیے۔

"وہ نسلی امتیاز کی پالیسیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ وہ نسلی امتیاز، خواتین مخالف اور اسلاموفوبیا کو معمول بنا رہے ہیں۔"

ایک سماجی گروپ "اسٹینڈ اپ ٹّ ریس ازم" کے رکن برائن رچرڈسن نے کہا کہ وزیراعظم مے نے "ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے جانے میں جلدی کرتے ہوئے اپنی تضحیک کی۔"

بعض قانون سازوں کا کہنا تھا کہ ایسے میں جب برطانیہ یورپی یونین سے نکل رہا ہے مے کی طرف سے بین البحرالکاہل کے "خصوصی تعلقات" کے فروغ میں جلد بازی اپنی جگہ بیتابی کا اظہار ہے۔

لیبر پارٹی کے قانون ساز کا کہنا تھا کہ "ہم نے یہ صدر جان ایف کینیڈی کے لیے نہیں کیا۔ ہم نے یہ صدر ہیری ٹرومین کے وقت بھی نہیں کیا۔ ہم نے یہ صدر رونلڈ ریگن کے لیے بھی نہیں کیا۔ لیکن اس شخص [صدر ٹرمپ] کے لیے صرف سات دنوں میں ہم کہتے ہیں کہ براہ مہربانی تشریف لائیے اور ہم سب کچھ بچھا دیں گے کیونکہ ہم آپ کے ساتھ کے لیے بہت بیتاب ہیں۔۔۔مجھے اس پر بہت شرمندگی ہے۔"

حکومت کا اصرار ہے کہ ٹرمپ کا دورہ ضرور ہوگا گو کہ تاحال ابھی اس کی حتمی تاریخوں کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ دعوت واپس لینے کا خیال بین البحرالکاہل تعلقات کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔

XS
SM
MD
LG