رسائی کے لنکس

لندن حملے کے بعد نسل، مذہب اور امیگریشن موضوعِ بحث


ٹرفلگر اسکوائر

دولت اسلامیہ نے آن لائن دعویٰ کیا ہے اُس کے پروپیگنڈے کے اثر کے نتیجے میں یہ حملہ ہوا۔ لندن میٹروپولٹن پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے دستے کے سربراہ، مارک رولی نے جمعے کے دِن بتایا کہ ابھی بہت سے سوالوں کا جواب آنا باقی ہے

ایسے میں جب پولیس بدھ کے روز وسٹ منسٹر میں پارلیمان کی عمارت کے اندر ہونے والے حملے آور کے عزائم جاننے کی کوشش کر رہی ہے، جو برطانیہ میں پیدا ہونے والا ایک 52 برس کا والد تھا۔۔ شناخت، مذہب اور امی گریشن کے معاملے پر پھر سے زیر بحث آنے لگے ہیں، جو یورپی یونین سے علیحدگی پر دیے جانے والے ووٹ کے بعد زور و شور سے نمودار ہوئے ہیں۔

اب بھی ہیلی کاپٹر آ جا رہے ہیں، جن میں پولیس اور اخباری نمائندے سوار ہیں، جب کہ ہلاک شدگان کے اہل خانہ اور پیاروں کے ساتھ تعزیت و ہمدردی کے لیے جمعرات کو ہزاروں شہری لندن کے ٹرفلگر اسکوائر میں جمع ہوئے، اس اظہارِ عزم کے لیے کہ شہر کی زندگی معمول کے مطابق رواں دواں رہے گی۔

مشرف احمد اُن سینکڑوں مسلمانوں میں سے ایک تھے، جنھوں نے شمع جلانے کی رسم میں شرکت کی۔

اُنھوں نے بتایا کہ ’’اِن حملوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام اس کے برعکس تعلیم دیتا ہے۔ اسلام امن کا پیغام دیتا ہے۔ اسلام کا مطلب ہی امن ہے‘‘۔

حملہ آور، خالد مسعود مشرف نے اسلام قبول کیا تھا، جن کی پیدائش لندن سے باہر ہوئی تھی، اور اُن کا نام ادریان رسل المس تھا۔

مسعود تین بچوں کے والد ہیں، جن کو پُرتشدد چال چلن پر سزائیں ہو چکی تھیں، لیکن دہشت گردی سے تعلق نہیں رہا تھا۔

دولت اسلامیہ نے آن لائن دعویٰ کیا ہے اُس کے پروپیگنڈے کے اثر کے نتیجے میں یہ حملہ ہوا۔ لندن میٹروپولٹن پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے دستے کے سربراہ، مارک رولی نے جمعے کے دِن بتایا کہ ابھی بہت سے سوالوں کا جواب آنا باقی ہے۔

اُنھوں نے سوال کیا کہ ’’وہ انتہاپسندی کی جانب کیوں راغب ہوا؟ کیا ہماری کمیونٹی، بیرون ملک سے یا آن لائن پروپیگنڈہ نے اُن کو اس راہ پر ڈالا؟‘‘

یہی وہ سوالات تھے جو جولائی 2005ء میں لندن میں ہونے والے بم حملوں کے بعد سامنے آئے تھے، جو بھی برطانوی شہریوں نے ہی کیے تھے۔ کسے قصور وار ٹھہرایا جائے؟ یہ بات پروفیسر لی مرسڈن نے پوچھی ہے، جو ایسٹ انجلیا یونیورسٹی میں تعلیم دیتی ہیں۔ اُنھوں نے ماضی کے دہشت گرد واقعات کے پیچھے محرکات کا جائزہ لیتے رہے ہیں۔

مرسڈن کا کہنا ہے کہ ’’میرے خیال میں الزام دینا بہت آسان کام ہے۔ لیکن، حقیقت یہ ہے کہ سر پھرے لوگ ایسی حرکات کرتے ہیں، یا پھر جب تفتیش کا عمل جاری ہو، اس قسم کی حرکات ہوتی ہیں‘‘۔

ویسٹ منسٹر کا واقع ایک ایسے لمحے نمودار ہوا ہے جب یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے بعد عوامی احساسات زور پکڑ رہے ہیں، اور تارکین وطن کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ حملے کےکچھ ہی گھنٹوں کے اندر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ’یو کے انڈپنڈینس پارٹی‘ نے امیگریشن کو ذمے دار قرار دیا ہے، حالانکہ حملہ آور برطانیہ ہی میں پیدا ہوا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG