رسائی کے لنکس

یونین کا کہنا ہے کہ ٹیوب ڈرائیوروں کے برعکس ایک ہی شہر میں ایک ہی جیسا کام کرنے والے ہر بس ڈرائیور کے لیے تنخواہ کی الگ شرح مقرر ہے۔

برطانوی دارالحکومت لندن میں منگل کو بس ڈرائیوروں نے تنخواہوں کے معاملے پر ہڑتال کی جس کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

لندن میں شام کے اوقات میں بس اسٹینڈز پر لوگوں کی لمبی قطاریں نظر آئیں جبکہ ریلوے اور زیرِ زمین چلنے والی ٹیوب سروس پر بھی معمول سے کہیں زیادہ رش رہا۔

نجی بس کمپنیوں کے ہزاروں ڈرائیوروں نے تنخواہوں میں اضافے اور ملازمتوں سے متعلق معاہدے کی منظوری کی مہم کے تحت منگل کو شہر بھر میں ہڑتال کی۔

نشریاتی اداروں کے مطابق 'ٹرانسپورٹ آف لندن' نے خبردار کیا ہے کہ منگل کی رات دیر گئے تک بس سروس متاثر رہے گی اور شہر میں نقل و حرکت کے ذرائع بدھ تک معمول پر واپس آنے کی توقع ہے۔

بس کارکنوں کی یونین یونٹ، جو 27,000 بس ملازمین اور 18 بس کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے، ڈرائیوروں کے لیے ایک ایسا معاہدہ چاہتی ہے جس کے تحت انہیں ٹیوب ڈرائیوروں کے مساوی معاوضے مل سکیں۔

یونین کا کہنا ہے کہ ٹیوب ڈرائیوروں کے برعکس ایک ہی شہر میں ایک ہی جیسا کام کرنے والے ہر بس ڈرائیور کے لیے تنخواہ کی الگ شرح مقرر ہے۔

منگل کو ہونے والی ہڑتال میں نو بس کمپنیوں کے ملازمین نے حصہ لیا جبکہ شہر بھر کی 40 بس روٹ پر بسیں معمول کے مطابق چلتی رہیں۔ لیکن مرکزی شہر جانے والی متعدد بسیں اس ہڑتال سے متاثر ہوئیں جس کی وجہ سے مقامی اور سیاحوں کے من پسند مقام آکسفورڈ اسٹریٹ کی گہماگہمی بھی ماند پڑ گئی۔

بس ورکرز کی ہڑتال سے ایک روز قبل ہونے والے ایک سروے میں دو تہائی بس مسافروں نے ڈرائیوروں کو ٹیوب ڈرائیورز کے مساوی معاوضہ دینے کی حمایت کی تھی۔

لندن کے مئیر بورس جانسن نے ہڑتال کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لندن میں تنخواہوں کی مختلف شرح ایک مناسب بات ہے کیونکہ شہر بھر میں کام کرنے کے ماحول میں واضح فرق ہے۔

XS
SM
MD
LG