رسائی کے لنکس

لندن کانفرنس سے پاکستان کی توقعات

  • محمداشتیاق

لندن کانفرنس سے پاکستان کی توقعات

لندن کانفرنس سے پاکستان کی توقعات

توقع ہے کہ لند ن کی عالمی کانفرنس میں افغانستا ن کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مشکلات بھی زیر غور آئیں گی؛ پاکستانی حکومت

پاکستانی حکام نے ایک بارپھر کہا ہے کہ افغانستان میں سیاسی استحکام اور معیشت کی بحالی سے نہ صرف پاکستان میں امن وامان کی صورت حال میں بہتری آئے گی بلکہ یہاں مقیم لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ حکومت کے عہدیداروں نے اس توقع کا بھی اظہارکیا ہے کہ لندن میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان کے اس موقف کوپیش نظر رکھ کر افغانستان کے مستقبل کے بارے میں حکمت عملی وضع کی جائے گی۔

پاکستانی حکام اس خدشے کا بھی اظہار کرتے آئے ہیں کہ افغانستا ن میں غیر ملکی افواج میں اضافے کی پالیسی اُن کے ملک خصوصاً قبائلی علاقوں میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے اس لیے ان علاقوں میں عسکریت پسندی کی حوصلہ شکنی کے لیے سیاسی و ترقیاتی منصوبوں کے لیے بین الاقوامی برادری کو لندن کانفرنس کے موقع پر پاکستان کو مالی امداد دینے کے معاملے پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے ۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے وائس آف امریکہ کو ایک خصوصی گفتگو میں بتایا کہ قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے باعث ان علاقوں میں ضروری اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر ہو رہی ہے لیکن حکومت نے اس حوالے سے اپنی منصوبہ بندی مکمل کررکھی ہے اور یہ کام قبائلی علاقوں کے نمائندوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ اُن کا کہنا ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فاٹا میں سیاسی سرگرمیوں کی بھی اجازت سمیت دیگر سیاسی اور انتظامی اصلاحات کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت کا موقف ہے کہ گو اُسے سیاسی محاذ سمیت کئی چیلنجوں کا بھی سامنا ہے تاہم عسکریت پسندی کا خاتمہ بالخصوص قبائلی علاقوں میں امن وامان کی بحالی اب بھی سرکاری ایجنڈے سرفہرست ہے اور اُنھیں توقع ہے کہ لند ن کی عالمی کانفرنس میں جس میں امریکہ اور برطانیہ سمیت تقریباً 70 ممالک کے وزرا خارجہ شرکت کریں گے افغانستا ن کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مشکلات بھی زیر غور آئیں گی۔

پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن وامان کی بحالی اور سیاسی استحکام کے قیام کے لیے مقامی حالات کو مدنظر رکھ کر حل تلاش کیا جائے اُس پر عمل درآمد افغانوں کی قیادت کے ذریعے کرایا جانا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG