رسائی کے لنکس

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہو سکتا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص کی ذہنی صحت ایک محرک ہو سکتی ہے۔

برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے وسطی علاقے میں چاقو کے حملے میں ایک خاتون ہلاک جب کہ پانچ دیگر افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس نے 19 سالہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا ہے تاہم اُس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے، یہ واقع رسل اسکوئر میں پیش آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہو سکتا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص کی ذہنی صحت ایک محرک ہو سکتی ہے، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

لندن کی میڑو پولیٹن پولیس کے خصوصی آپریشن کے اسسٹنٹ کمشنر مارک رُولی نے کہا کہ ’’ابتدائی شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ اس واقعہ میں (حملہ آور کی ذہنی صحت) ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے اور تفتیش میں اس پہلو کو مدنظر رکھا جا رہا ہے‘‘۔

برطانوی پولیس

برطانوی پولیس

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ظاہر ہے کہ اس مرحلے پر ہم اس حملے کے محرک کا کھلے ذہن کے ساتھ جائزہ لیں گے ۔۔۔۔۔۔ دہشت گردی بھی ایک امر ہو سکتا ہے لیکن ہم ایک دوسرے پہلو کی بھی ہم چھان بین کر رہے ہیں‘‘۔

رُولی نے کہا کہ ’’احیتاط کے طور پر لندن میں پولیس کو تعینات کیا جا رہا ہے جن میں کچھ پولیس اہلکار مسلح بھی ہوں گے۔ ان کے بقول اس کا مقصد تحفظ اور (لوگوں) کا حوصلہ بڑھانا ہے۔‘‘

ایک بیان میں لندن کے میئر صادق خان نے کہا کہ لندن میں تحفظ اُن کی اولین ذمہ داری ہے۔

صادق خان نے کہا کہ پولیس نے جائے وقوعہ سے ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے ’’پولیس نے اُس (حملہ آور) سے بات کی ہے اور اس حملے کے مقاصد جانے سے متعلق مکمل حقائق تلاش کر رہی ہے۔‘‘

اُنھوں نے لندن میں رہنے والوں سے کہا ہے کہ وہ پرسکون لیکن ہوشیار رہیں ’’کسی بھی مشتبہ چیز کے بارے میں پولیس کو آگاہ کریں۔ لندن کے تحفظ میں پولیس اور سکیورٹی سروسز کی آنکھ اور کان کے طور پر ہم سب کا کردار اہم ہے۔‘‘

چاقو سے حملہ کرنے کا واقع ایک ایسے دن پیش آیا جب لندن پولیس نے (ممکنہ) دہشت گرد حملے روکنے لیے شہر میں مسلح پولیس افسروں کے گشت میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پولیس عہدیداروں کے مطابق مسلح پولیس افسروں کی گشت میں اضافہ یورپ میں ہوئے حالیہ دہشت گرد حملوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG