رسائی کے لنکس

لندن میں احتجاج کے لاہوری رنگ ڈھنگ

  • عمیر ریاض

لندن میں احتجاج کے لاہوری رنگ ڈھنگ

لندن میں احتجاج کے لاہوری رنگ ڈھنگ

گزشتہ کئی روز سے لندن کی سڑکوں پر "دما دم مست قلندر" ہو رہا ہے جبکہ لاہور کے تعلیمی ادارے "ڈاؤن ود گورنمنٹ" کے نعروں سے گونج رہے ہیں۔ دونوں شہروں کے طلبہ اشتعال میں ہیں اور اپنی اپنی حکومتوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ تاہم اس بار "مہذب دنیا" اور "فرسودہ معاشروں" میں احتجاج کے رنگ ڈھنگ تقریباً ایک جیسے نظر آرہے ہیں۔ وہی جلاؤ گھیراؤ! وہی "ہائے ہائے" کے نعرے! اور وہی پولیس کی چھترول! لگتا ہے کہ اہلِ مغرب نے بلآخر ہم سے اکتسابِ فیض کرنا شروع کردیا ہے۔

برطانوی طلبہ اپنی حکومت کی جانب سے تعلیم پر دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے اور فیسوں میں ہونے والے اضافے کے خلاف گزشتہ ماہ سے احتجاجی تحریک پر ہیں۔ جبکہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے طلبہ حکومت کی جانب سے سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری اور وہاں نجی شعبے کا کردار بڑھانے کے خلاف برسرِ احتجاج ہیں۔ برطانیہ میں طلبہ کے احتجاج کا مرکز دارالحکومت لندن ہے جبکہ پاکستان میں مظاہروں کی شدت ملک کے ثقافتی کیپٹل لاہور میں دیکھنے میں آرہی ہے۔

تاہم ایک دوسرے سے ہزاروں میل پرے واقع دونوں شہروں میں جاری احتجاج ایک دوسرے کا پرتو نظر آتے ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں میں کئی لحاظ سے مماثلت پائی جاتی ہے جس کا تجزیہ دلچسپی سے خالی نہیں۔

مظاہرین دونوں معاشروں کے نوجوان طبقے پر مشتمل ہیں جن کی اکثریت 20 سے 25 سال کی عمروں کی حامل ہے، ہر دو احتجاجی تحریکوں کو مقامی اساتذہ تنظیموں کی بھرپور حمایت حاصل ہے، اور دونوں جگہوں پر مظاہرین کا جوش و خروش دیدنی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ واقعات کی یکسانیت بھی حیرت انگیز ہے۔

ان احتجاجوں کی سب سے نمایاں بات ان میں جھلکتا تشدد کا رنگ ہے۔ پاکستان میں تو پر تشدد احتجاج ایک عمومی بات ہے تاہم برطانوی طلبہ کے حالیہ طرزِ احتجاج کی نظیر "مہذب" برطانیہ کی جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔ پہلی بار برطانیہ میں احتجاجی سیاست پرتشدد رنگ اختیار کیے ہوئے ہے جس نے سیاسی حلقوں کو خاصی پریشان میں مبتلا کردیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے سربراہ تو یہاں تک کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ طلبہ کے ان حالیہ مظاہروں سے برطانیہ میں احتجاجی سیاست نئے دور میں داخل ہوگئی ہے اور ملک کے گلی کوچوں میں "ابتری" کے مزید مناظر بعید از قیاس نہیں۔

لاہور میں بدھ کے روز ہونے والے طلبہ کے مظاہرے اپنی نوعیت کے شدید ترین مظاہرے تھے۔ بدھ کو جو کچھ لاہور میں ہوا اس کا ہو بہو ایکشن ری پلے جمعہ کے روز لندن میں دیکھنے کو ملا۔ آئیے آپ کو منظر بہ منظر یہ فلم دکھاتے ہیں:
بدھ کے روز لاہور کے سرکاری کالجوں کے سینکڑوں طلبہ اور اساتذہ نے اپنے اپنے تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کیا؛ جمعہ کو لندن میں بھی یہی کچھ ہوا جہاں تمام تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ رہا اور ہزاروں کی تعداد میں طلبہ شہر کی مختلف سڑکوں پر مارچ کرتے رہے۔ لاہوری دھرنا دینے پنجاب اسمبلی پہنچے اور لندن والے برطانوی پارلیمنٹ کی عمارت پر۔ ہر دو جگہ پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے راستے بند کر رکھے تھے۔ دونوں جگہ مظاہرین نے رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی اور دونوں جگہ کی پولیس نے یہ کوشش ناکام بنانے کا ارادہ کیا۔ پھر اس کے بعد جو یکساں مناظر دیکھنے میں آئے وہ لاہوریوں کیلئے تو ہرگز نئے نہیں تھے لیکن لندن والوں کیلئے یقیناً حیران کن تھے۔

طلبہ نے اپنی اپنی اسمبلیوں کے احاطے میں ہلہ بول دیا، رکاوٹیں روند ڈالیں اور پولیس والوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ لاہور والوں نے پولیس پہ پتھراؤ کیا۔ لندن کی صاف ستھری سڑکوں پر مظاہرین کوپتھر تو کیا دھول بھی نہیں ملنے کی تھی، لہذا وہ گھر سے ہی انتظام کرکے چلے تھے۔ انہوں نے اپنے پولیس اہلکاروں پررنگ کے ڈبے انڈیل دیے اور "اسموک بم" سے ان کی تواضع کی۔ مشتعل طلبہ نے پنجاب اسمبلی کے احاطے اور برطانوی پارلیمان کے باغ میں نصب سیکورٹی کیمرے اور واک تھرو گیٹس توڑ ڈالے اور ہر دو جگہ موجود بینچوں اور دیگر فرنیچر کو آگ لگادی۔

لندن والوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر پولیس رکاوٹوں کو توڑ کر اس کی لاٹھیاں بنالیں اور ان کا خوب خوب استعمال کیا۔ اس کے علاوہ لندن کے طلبہ کے "کاری ہتھیاروں" میں ٹینس اور اسنوکر کی بالز، فوم اسپرے اور پینٹ بم بھی سرِ فہرست رہے جن کی بدولت لندن کے کئی "معصوم" پولیس اہلکار میدانِ کارزار سے اپنے ساتھیوں کے کندھوں پر واپس گئے۔
اس بار لندن کی پولیس بھی لاہوری پولیس کی ہم پلہ نظر آئی تاہم اس نے ایک فرق یہ روا رکھا کہ ہاتھ صرف ان مظاہرین پر اٹھا یا جو اس پر ہاتھ اٹھا رہے تھے جبکہ پاکستانی نیوز ٹی وی چینلز پہ چلنے والی فوٹیجز میں ہماری پاکستانی پولیس درگت ہی ان کم عمر بچوں کی بناتی نظر آئی جو یونیفارم پہنے، بستہ بغل میں دابے جائے پناہ کی تلاش میں بولائے بولائے پھر رہے تھے۔

پولیس تشدد سے چراغ پا مظاہرین نے پنجاب اسمبلی کے ارد گرد کھڑی گاڑیوں کے شیشے اور ٹریفک سگنلز توڑ دیے، ٹائر جلائے اور پھر دو عدد بسوں کو بھی آگ لگادی۔ لندن میں طلبہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے ارد گرد موجود ٹریفک چوکیوں کو نذرِ آتش کردیا اور اس کی آگ کو "بون فائر" تصور کرکے اس کے گرد جشن مناتے رہے۔

پاکستانی پولیس چونکہ اس طرزِ احتجاج سے نمٹنیکی عادی ہے لہذا اسے تو اس معرکہ میں کوئی "جانی" نقصان نہیں اٹھانا پڑا تاہم لندن پولیس کے مطابق جمعہ کی جنگ میں اس کے 12 آفیسر اتنے زخمی ہوئے کہ انہیں اسپتال لے جانا پڑ گیا۔ اس باہمی ہاتھا پائی میں پاکستانی مظاہرین کے زخمیوں کی تعداد میڈیا اطلاعات کے مطابق درجن بھر رہی جبکہ لندن والے مظاہرین کے زخمیوں کا اسکور 43 رہا جو ان کی ناتجربہ کاری کا عکاس ہے۔ امید ہے کہ آہستہ آہستہ سیکھ جائیں گے!

پاکستانی احتجاجوں کے دوران جو سب سے نازیبا نعرہ لگتا ہے اس میں حریف کو وفاداری کے حوالے سے مشہور ایک جانور سے تشبیہ دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ "وہ فلاں، ہائے ہائے"۔ اس سے زیادہ نازیبا نعرہ ابھی ہمارے "بیک ورڈ" احتجاجوں میں متعارف نہیں ہوا اور اس نعرہ کا استعمال بھی شاذ شاذ ہی کیا جاتا ہے اور عموماً "مردہ باد" وغیرہ کی قبیل کے بے ضرر نعروں سے کام چلایا جاتا ہے۔

تاہم لندن کے "ترقی یافتہ" مظاہروں کی شان ہی اور دیکھی۔ ان مخلوط مظاہروں میں حکومتی وزراء کی شان میں ایسی ایسی نعرہ بازی سننے میں آئی کہ مشرقی مظاہرین سنتے تو ان کی کانوں کی لویں سرخ ہوجاتیں۔ لند ن کے مظاہرین نے نہ صرف کورس کے انداز میں لہک لہک کر حکومتی اہلکاروں کے "خانگی معاملات" اور "نجی زندگی" کے کئی گوشوں سے برسرِ عام پردہ سرکایا، وہیں، ان کے ہاتھوں میں موجود پلے کارڈز پر بھی انگریزی کے وہ الفاظ درج تھے جو عموماً ڈکشنریز میں بھی نہیں ملتے۔ صرف یہی نہیں برطانوی طلبہ نے دورانِ احتجاج "مدر پارلیمنٹ" کے احاطے میں موجود قومی مشاہیر بشمول ونسٹن چرچل کے مجسمے پر بھی ایسے نازیبا کلمات درج کردیے کہ جن کی "تابکاری" کے پیشِ نظر ایک اخباری اطلاع کے مطابق برطانوی میڈیا نے بھی انہیں شائع کرنے سے گریز کیا۔

لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جمعہ کے روز بھی جاری رہا جہاں طلبہ کو ایک بار پھر پولیس نے آڑے ہاتھوں لیا۔ لاہور میں پولیس کے لاٹھی چارج سے تنگ آئے طلبہ نے مشتعل ہوکر ایک ٹریفک پولیس اہلکار کی سرکاری موٹر سائیکل اٹھا کر ساتھ بہتی نہر میں پھینک دی۔ لگتا ہے اس واقعے کی اطلاع لندن تک جا پہنچی تھی۔ غالباً اسی وجہ سے جمعہ کے احتجاج کے دوران لندن کے پولیس اہلکار گھوڑوں پر گشت کرتے نظر آئے۔ افسوس کے اس لاہوری روایت کی تقلید لندن میں نہ ہوسکی کیونکہ گھوڑے کو اٹھا کر دریائے ٹیمز میں پھینکنا خاصا جان جوکھم کا کام ثابت ہوسکتا تھا۔

مغرب میں احتجاج کے یہ مشرقی رنگ ڈھنگ دیکھ کے لگتا ہے کہ ہماری برآمدات میں ایک اور جنس کا اضافہ ہوگیا ہے!اب پاکستان سے صرف سیاستدان ہی لندن ایکسپورٹ نہیں ہوتے بلکہ ان کا طرزِ سیاست بھی فرنگیوں میں مقبولیت پانے لگا ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ اب جلد ہی انگلستان میں لوٹا بھی "رواج" پاجائے گا۔

کلامِ آخر: یہ سطور لکھی جا چکی تھیں کہ خبر آئی کہ لاہور ہائی کورٹ کی نئے چیف جسٹس محترم جسٹس اعجاز احمد چوہدری نے پنجاب اسمبلی کے باہر اساتذہ اور طلبہ پر پولیس تشدد کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے جواب طلب کرلیا ہے۔ افسوس کے برطانوی طلبہ کے حقِ احتجاج کے تحفظ کیلیے انہیں کوئی مسیحا میسر نہیں آیا۔ لگتا ہے برطانوی عدالت ابھی تک آزاد نہیں ہوئی!!

XS
SM
MD
LG