رسائی کے لنکس

لندن باروز کے میدان جنگ میں لیبر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے جس نے وزیراعظم کی پسندیدہ کونسلوں ہیمراسمتھ اور فلہم کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے۔

لندن میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق برطانوی دارالحکومت میں لیبر جماعت نے اپنی فتح کا جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔

اگرچہ دائیں بازو کی جماعت 'انڈیپینڈنٹ' نے برطانیہ بھر میں فتح حاصل کی ہے لیکن لندن کی کونسلوں کے نتائج پر یہ جماعت اثر انداز ہونے میں ناکام رہی ہے۔

ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ لندن کے انتخابی نتائج نے بالکل نئی تصویر پیش کی ہے جہاں کے شہریوں نے کھل کر لیبر کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کو لندن کی 32 کونسلوں کی 1,800 سے زائد کونسلرز نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی تھی۔ لندن کی چار کونسلوں ٹاور ہملٹس، ہیکنی، نیو ہیم اور لیوشیم کے لوگوں نے میئر کے انتخاب کے لیے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

لندن باروز کی طرف سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعلانات کے مطابق مقامی کونسلوں میں لیبر جماعت نے اپنی جیت کو مستحکم کیا ہے۔ لندن باروز کے میدان جنگ میں لیبر نے وزیراعظم کی پسندیدہ کونسلیں ہیمراسمتھ اور فلہم کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

لیبر جماعت نے ریڈ برج کی 25، ہیرن گئے کی 48 اور کروئیڈن جیسی کونسلوں سے لبرل ڈیمو کریٹ کی سالہا سال کی کامیابی بھی چھین لی ہے۔

شمالی و مشرقی لندن اور اندرون شہر کی کونسلوں سے بھی لیبر کے امیدواروں نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔

لندن کی چار کونسلوں کے مئیر کے انتخابات میں نیو ہیم، ہیکنی اور لیو شیم سے لیبر کے مئیر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ ٹاور ہملٹس کونسل کے نتائج آنے باقی ہیں۔

مقامی انتخابات کے نتائج کے مطابق لندن کی دوسری بڑی کامیاب جماعت کنزرویٹیو رہی جس نے ونڈسورتھ، بیکسیلی، بروملی، کنزنگٹن اینڈ چیلسی اور ویسٹ منسٹر کی کونسلوں میں واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ ان نشستوں کے لیے یو کپ کے امیدواروں کو کنزرویٹیو نمائندوں کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔
XS
SM
MD
LG