رسائی کے لنکس

لندن اولمپکس: سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات

  • واشنگٹن

pakistani athlete rabia ashiq

pakistani athlete rabia ashiq

برطانوی عہدہ دار کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے اپنے تمام وسائیل کو برُوئے کار لانے کے لئے تیار ہیں

27 جولائی کو شروع ہونے والے عالمی اولمپکس کے مقابلوں کی میزبانی کا جو بِیڑا لندن نے اُٹھایا ہے، اُس میں مُنتظمین کو سب سے بڑی پریشانی اس بات کی ہے کہ انہیں کس طرح محفوظ رکھا جائے۔ 1972 کے مُیونخ اولمپکس پر حملوں کے بعد سے اور حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پیش نظر اولمپک کھیلوں کے بجٹ میں تحفّظ فراہم کرنے کی مد پربھاری خرچ اُٹھتا ہے۔

برطانوی عہدہ دار کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے اپنے تمام وسائیل کو برُوئے کار لانے کے لئے تیار ہیں۔حتّیٰ کہ برطانوی ائیر فورس کے جیٹ طیاروں تک کو چوکنّا کر دیا گیا ہے۔ وہ اس کام پر17 ہزار فوجیوں کومتعیّن کر رہے ہیں۔ اور اولمپک پارک کے ارد گرد کے محلّوں میں طیارہ شکن توپیں نصب کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بحریہ سے بھی کام لیا جارہا ہے اور دریائے ٹیمز میں ایک جنگی جہاز اور چھوٹی کشتیاں متعیّن کی جارہی ہیں۔

فوجوں کی تعداد آخری وقت میں ہزاروں کی حد تک بڑھانی کی ضرورت پڑی ، جب ایک ٹھیکے دار حسب وعدہ اتنے ہی سیکیورٹی گارڈ فراہم نہ کر سکا۔ عُہدہ داروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے کھیلوں کی سیکیورٹی پر اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن جیسا کہ سیکیورٹی کے مشیرڈیوڈ رُبِنز کہتے ہیں ، یہ ایک چیلنج ضرار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ابھی تیار نہیں ہیں ، اور اُنہیں یقینی طور پر اصلاح احوال کرنا ہوگا، بجائے اس کہ کسی صورت حال کے پیدا ہونے کے بعدہی اس سے نمٹنے کی کوئی سبیل نکالنا ، جیسا کہ انہوںیہ کاروائی شروع ہونے سے پہلے سوچا تھا۔

اولمپک کھیلوں کے لاکھوں شیدائی اور اور ان میں شرکت کرنے والے دسیوں ہزاروں لوگو ں میں سے بیشتر کو ، سیکیورٹی کے مختلف پہلؤوں کی خبر تک نہ ہوگی،اُن کے لئے تو ان کھیلوں کا مطلب ہے ۔ ائیر پورٹ سے گُذر کر جانا۔ سیکیورٹی کے عملے کو بھی مشق کا موقع اس سال کے اوائل میں اولمپک کھیلوں کے آزمایشی مقابلوں کے دوران ملا۔ جب اولمپک پارک کے سیکیورٹی کے عملے نے بھی دو سو ہیکٹر پر پھیلے ہوئے اس پارک کے چہاروں اطراف کو مانِٹر کرنے والی جدید ترین ٹیکنالوجی کو پرکھا ۔

لندن اولمپک تنظیمی کمیٹی کے چئیرمن اور برطانیہ کے سابق گولڈ میڈلسٹ سبیس چَیّن کو ، کہتے ہیں کہ ہم نے لوگوں کو لندن آنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ اس ملک میں ہونے والے کھیلوں کےسب سےعظیم مقابلوں کا مشاہدہ کر یں۔ہم لوگوں کو ایک محصور شہر میں آنے کی دعوت نہیں دے رہے۔

اور جیسے جیسے کھیلوں کے مقابلے منعقد ہونگے، دنیا بھر کے لوگوں کو اندازہ ہو جائے گا، کہ آیا ان کے منتظمین کو 17 روزہ مقابلوں کے چیلنجوں سے نمٹنے میں کامیابی ہوتی ہے یا نہیں
XS
SM
MD
LG