رسائی کے لنکس

عمران فاروق کیس: برطانیہ کو ایک ملزم سے تفتیش کی اجازت


چوہدری نثار نے بتایا کہ عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں حراست میں لیے گئے ملزم سے تفتیش کے لیے برطانوی پولیس کی ٹیم رواں ہفتے کے اواخر یا آئندہ ہفتے پاکستان پہنچے گی۔

پاکستان نے برطانوی پولیس کو عمران فاروق قتل کے مقدمے میں اپنے ہاں زیر حراست ایک ملزم تک رسائی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ سفارتی ذرائع سے برطانیہ کو اس سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور اُن کے بقول رواں ہفتے کے اواخر یا آئندہ ہفتے کے آغاز میں برطانوی ٹیم یہاں پہنچے گی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ کراچی سے حراست میں لیے گئے ملزم سے برطانوی پولیس عمران فاروق قتل سے متعلق پوچھ گچھ کر سکے گی، البتہ اُنھوں نے ملزم کا نام نہیں بتایا۔

’’گزشتہ ہفتے ہم نے سفارتی ذرائع سے ان کو اطلاع دی تھی کہ پہلے مرحلے میں آپ آکر اس شخص کی تفتیش کر سکتے ہیں فی الحال ہم نے فیصلہ نہیں کیا ہے کہ تفتیش بلواسطہ ہو گی یہ بلاواسطہ مگر ہمیں یہ اطلاع آئی ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں یا آئندہ ہفتے کے شرو ع میں میٹروپولیٹن پولیس کی ٹیم اس شخص سے تفتیش کے لئے یہاں آئے گی۔‘‘

واضح رہے کہ اپریل میں کراچی میں رینجرز نے معظم علی نامی ایک شخص کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد یہ بتایا گیا تھا کہ وہ ایم کیو ایم کے ایک سینیئر رہنما عمران فاروق کے مقدمہ قتل کا ایک مرکزی ملزم ہے۔

معظم علی پر الزام ہے کہ انھوں نے اُن دو افراد کو برطانیہ بھجوانے کا انتظام کیا تھا جو مبینہ طور پر عمران فاروق کے قتل میں ملوث تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق ابتدا میں برطانوی پولیس کی دو رکنی ٹیم کو یہاں آنے کی اجازت دی گئی ہے جس میں بعد ازاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

عمران فاروق کو ستمبر 2010 میں لندن میں قتل کیا گیا تھا

عمران فاروق کو ستمبر 2010 میں لندن میں قتل کیا گیا تھا

گزشتہ ہفتے ہی بلوچستان میں فرنیئٹر کور نے دو افراد کو گرفتار کیا جن کے بارے میں بتایا گیا گیا کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

چمن سرحد سے گرفتار کیے گئے افراد کے نام خالد شمیم اور محسن علی بتائے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ کے بقول یہ دونوں افراد اس وقت تک بلوچستان میں ہی ہیں، تاہم اُن کہنا تھا کہ حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ عمران فاروق قتل کے شبے میں زیر حراست ملزمان کو اسلام آباد لایا جائے گا۔

عمران فاروق کو ستمبر 2010ء میں لندن میں اُن کی رہائش گاہ کے قریب تیز دھار آلے کے وار کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا اور برطانوی پولیس اس بارے میں پاکستان سے رابطہ کر کے کہہ چکی ہے کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان پاکستان میں ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ "ایم کیو ایم" کے عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ گرفتار ہونے والوں میں سے کسی سے بھی ان کی جماعت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ حراست میں لیے گئے افراد کا تعلق کس جماعت سے ہے۔

’’میں بالکل یہ واضح کرنا چاہتا ہوں اور آپ سے بھی التجا کرتا ہوں کہ یہ کیس ایم کیو ایم کے حوالے سے نہیں۔۔۔۔ ایم کیو ایم کی قیادت کی طرف سے (یہ کہا جاتا رہا ہے) کہ عمران فاروق قتل کیس کے جو بھی ملزمان ہیں اُن کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ اس مقدمے کے حوالے سے تفتیش بالکل غیر جانبدارانہ ہو گی اور اس ضمن میں جس قدر ممکن ہو سکا میڈیا کو آگاہ رکھا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG