رسائی کے لنکس

میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ چوروں نے تہہ خانے کے محفوط احاطے میں داخل ہونے سے پہلے ،ہیوئی ڈیوٹی کٹائی کی مشینری کا استعمال کیا اور تقریبا 70 تجوریوں کوکاٹ کر ان میں سے قیمتی ہیروں اور زیورات چرائے ۔

برطانوی دارالحکومت کی ڈائمنڈ ڈسٹرکٹ ہیٹن گارڈن میں زیورات اور قیمتی پتھروں کی چوری کی ایک بڑی وارادات ہوئی ہے اور چوری شدہ سامان کی مالیت لاکھوں پاونڈ میں ہو سکتی ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈکیتی کی یہ واردات ایسٹر کے موقع کی طویل تعطیلات کے دوران ہوئی۔ اس واقعہ میں چوروں نے ہیٹن گارڈن سیف ڈپازٹ کی عمارت کے تہہ خانے میں محفوظ تجوریوں کا صفایا کردیا۔

لندن میں ہیٹن گارڈن زیورات کی تجارت کے لیے مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس عمارت کی تجوریوں کو بنیادی طور پر مقامی سنار اپنے کھلے جواہرات اور قیمتی اشیاء محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ایک رپورٹ میں خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ چوروں کے پاس عمارت میں داخل ہونے کے لیے ایسٹر کی چھٹیوں کے کئی دن تھے۔ قیاس یہ بھی ہے کہ چور چھت سے عمارت کے اندر گھسے اور تجوریوں تک پہنچنے کے لیے لفٹ شافٹ ( رسی) کے ذریعے نیچے اترے۔

میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ چوروں نے تہہ خانے کے محفوط احاطے میں داخل ہونے سے پہلے ہیوی ڈیوٹی کٹائی کی مشینری کا استعمال کیا اور تقریباً 70 تجوریوں کو کاٹ کر ان میں سے قیمتی ہیرے اور زیورات چرائے۔

بتایا گیا ہے کہ ان تجوریوں کے تحفظ کے لیے وہاں احاطے میں دو فٹ موٹا ٹھوس اور دھات کا سیکیورٹی دروازہ موجودتھا۔

پولیس کی جانب سے اگرچہ چوری کے سامان کی مالیت نہیں بتائی گئی ہے لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق کہا جارہا ہے کہ چوری شدہ جواہرات کی مالیت بیس کروڑ پاونڈ تک ہو سکتی ہے۔

فلائنگ اسکواڈ پولیس کے سربراہ بیری فلپس نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ واردات پیشہ وارانہ ٹیم کی طرف سے کی گئی ہے یہ ایک انتہائی منظم اور جدید طرز کی ڈکیتی ہے۔

بیری فلپس کے مطابق ،عام طور پر اس طرح کی وارداتوں میں چوری شدہ سامان کی ڈیل پہلے سے طے ہوتی ہے اور واردات کے کچھ ہی گھنٹوں کے اندر چور ملک سے فرار ہو جاتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ دیگر تجوریوں میں دس فیصد نجی افراد کی طرف سے کرائے پر لی جاتی ہیں لہذا ڈکیتی کی حقیقی قیمت کا جاننا بہت مشکل ہے۔

ایک تجوری کے مالک گیری لندن نے بتایا کہ اپنے قیمتی سامان کے چوری ہو جانے سے وہ برباد ہو گئے ہیں۔ گیری لندن نے کہا کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ گڈ فرائیڈے کی رات ایک بجے عمارت کے اندر خطرے کا الارم بند ہو گیا تھا جس پر سیکیورٹی گارڈ نیچے تہہ خانےمیں اترا تھا اور کھڑکیوں سے جھانک کر اندر دیکھا تھا لیکن وہاں کوئی سرگرمی نہیں تھی، لہذا وہ واپس لوٹ آیا تھا۔

نائٹس برج لندن سے تعلق رکھنے والے متاثرہ سنار مائیکل ملر نےخدشہ ظاہر کیا کہ وہ اس چوری کی واردات میں غالبا 50 ہزار پاونڈ کے زیورات اور قیمتی گھڑیوں سے محروم ہو گئے ہیں۔

"مجھے اس چوری کا یقین نہیں ہوتا کیونکہ وہاں اندر جانے کے لیے ڈبل دروازے اور تالے کا نظام نصب ہے ،ان دروازوں میں سے گزر کر کوئی شخص تہہ خانے تک جا سکتا ہے۔"

لندن پولیس کی طرف سے جار ی ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ افسران جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹا کر رہے ہیں۔

یہ ایک سست رفتار تفتیشی عمل ہے جس میں فرانزک جانچ، منظر کی فوٹو گرافی کے ذریعے تفصیلات کا ریکارڈ اکھٹا کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر اس قسم کے تفتیشی عمل میں تقریباً دو دن درکار ہوتے ہیں تاہم مشتبہ افراد کی نشاندھی ہونے پر پولیس متاثرہ افراد سے براہ راست رابطہ کرئے گی۔

ہیروں کی اس چوری سے قبل لندن میں 2003ء میں ہیٹن گارڈن میں نقدی اور قیمتی جواہرات کی چوری ہوئی تھی جس میں ایک شخص نے خود کو گاہک ظاہر کرتے ہوئے تجوریاں خالی کر دی تھیں۔

جبکہ 1987 میں لندن میں نائٹس برج کے سیف ڈپازٹ سنٹر میں تاریخ کی بڑی چوریوں میں سے ایک ہوئی تھی جس میں دو مسلح ڈاکوں نے تجوری کرایہ پر لینے کا پوچھا تھا اور تہہ خانے میں پہنچ کر بندوقیں نکال لی تھیں۔ اس وارادات میں چوروں نے تقریبا 60 لاکھ پاونڈ مالیت کی اشیاء چوری کی تھیں۔ تاہم مفرور چور کو بعد میں برطانیہ میں گرفتار کر لیا گیا اسے بائیس برس کی جیل کی سزا ہوئی تھی۔

XS
SM
MD
LG