رسائی کے لنکس

جس وقت برطانوی اسکولوں میں موسم گرما کی چھٹیوں کا آغاز ہوتا ہے اسوقت یورپ کے زیادہ تر ملکوں میں چھٹیاں اختتام کی جانب بڑھ رہی ہوتی ہیں۔

برطانیہ اور ویلز کے اسکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا آغاز اسی ہفتے سے ہوا ہے اگرچہ برطانوی طالب علم موسم گرما کی سخت گرم دوپہریں اسکولوں میں رہ کر گزار چکے ہیں لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ محکمہ موسمیات نے اگست کے وسط تک برطانیہ بھر میں موسم گرم رہنے کی پیش گوئی کر دی ہے۔

موسمیاتی ماہرین نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران برطانیہ کے زیادہ تر حصوں میں درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 30 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ظاہر کی ہے لیکن یہ پیش گوئی اکثر لندن کے حوالے سے صحیح ثابت نہیں ہوتی ہے جہاں بادوباراں اورطوفانی بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے اس ہفتے بھی جاری رہا۔

اسکولوں کی چھٹیوں کا پہلا ویک اینڈ ہوائی سفر کا مصروف ترین ہفتہ رہا جس میں لگ بھگ 508,000 مسافروں نے برطانیہ سے باہر موسم گرما کی چھٹیاں گزارنے کے لیے سفر کیا۔

علاوہ ازیں ،موسم گرم رہنے کی پیش گوئی نے ہزاروں برطانوی شہریوں کو ملک میں رہ کر تعطیلات گزارنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔

برطانوی اسکولوں کی دیر سے شروع ہونے والی چھٹیوں کے حوالے سے والدین مختلف قسم کی آراء رکھتے ہیں۔ والدین کی اکثریت اس بات سے خفا نظر آتی ہے کہ اسکولوں کی چھٹیوں کا دورانیہ دنیا کے باقی ملکوں کے اسکولوں کے ساتھ ہی ہونا چاہیئے دیر سے چھٹیاں ہونےکی وجہ سے دوردراز کے رشتہ داروں اور دوستوں سےملاقات کا پروگرام نہیں بنایا جا سکتا ہے لیکن بد قسمتی سے جہاں چھٹیوں کا آغاز دیر سے ہوتا ہے وہیں تعطیلات بھی صرف چھ ہفتوں میں ہی اختتام پذیر ہو جاتی ہیں۔

دوسری جانب ایسے والدین بھی ہیں جنھیں موسم گرما کی چھٹیوں کےدوران بچوں کی تعلیم کےحوالےسے شدید تشویش رہتی ہے جن کا کہنا ہے کہ بچے گھر میں پڑھائی لکھائی پر توجہ نہیں دیتے ہیں اورچھٹیوں کے اختتام تک وہ سارے اسباق بھول چکے ہوتے ہیں۔

والدین کی ایک بڑی تعداد اس بات سے بھی متفق نظر آتی ہے کہ بچوں کی طویل چھٹیاں ان کی جیب پر بھاری پڑتی ہے اس مدت کے دوران روزمرہ کےاخرجات کے ساتھ ساتھ سیرو تفریح کی مد میں اخراجات میں اچھا خاصا اضافہ ہو جاتا ہے علاوہ ازیں ملازمت پیشہ والدین کے لیے بچوں کی اسکول کی چھٹیاں کسی امتحان سے کم نہیں ہوتی ہیں جن کے لیے یہ چھٹیاں بچوں کی نگہداشت کے اخراجات بنتی ہیں۔

حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جس وقت برطانوی اسکولوں میں موسم گرما کی چھٹیوں کا آغاز ہوتا ہے اس وقت یورپ کے زیادہ تر ملکوں میں چھٹیاں اختتام کی جانب بڑھ رہی ہوتی ہیں۔

بعض یورپی ممالک مثلاً سویڈن، آئس لینڈ، فن لینڈ، آئر لینڈ اور بلغاریہ کے اسکولوں میں مئی کے آخری ہفتے سے چھٹیوں کا آغاز ہو جاتا ہےجبکہ یہ چھٹیاں 12 ہفتوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔

علاوہ ازیں اٹلی اور ہنگری کے اسکولوں کی چھٹیاں جون سے شروع ہو جاتی ہیں اسی طرح لاطینی طالب علموں کی چھٹی 13 ہفتوں پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ ناروے اور پولینڈ میں اسکولوں میں موسم گرما کی چھٹیوں کا دورانیہ8 ہفتوں پرمشتمل ہے۔

دریں اثنا برطانیہ بھر میں موسم گرما کی تعطیلات کے طریقے کے حوالے سے میں فرق پایا جاتا ہے۔ برطانیہ اورویلز کے اسکول جولائی کے تیسرے ہفتے تک کھلے رہے لیکن اسکاٹ لینڈ کے طالب علم جون کے مہینے سے چھٹی پر ہیں اور شمالی آئرلینڈ کے اسکولوں کی چھٹی جولائی کے پہلے ہفتے میں اختتام پذیر ہو چکی ہیں۔

تاہم والدین کی اکثریت کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی موسم گرما کی طویل تعطیلات سال کا ایک ایسا بین الاقوامی تہوار بن چکی ہیں جب دنیا بھر کے بازاروں، محلوں، پارکوں اور ساحل سمندر کی رونقیں عروج پرنظر آتی ہیں۔

محفلیں،تقریبات اور راتیں جاگنے لگتی اور شاید یہی وہ وقت ہوتا ہے جب گھر کے بڑے بھی بچوں کی طرح چھٹیوں سے پوری طور پر لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں لہذا یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ موسم گرما کی اسکول کی چھٹیوں کا انتظار بچوں سے زیادہ بڑوں کو رہتا ہے۔

XS
SM
MD
LG