رسائی کے لنکس

’’مشتبہ افراد کے اثاثے منجمد کرنا غیر قانونی اقدام ہے‘‘

  • سیلہ ہینسے

محکمۂ خزانہ نے ان مشتبہ دہشت گردوں کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم 2006ء میں دیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ بین الاقوامی دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کو روکا جائے۔

برطانیہ میں سپریم کورٹ نے بدھ کے روز فیصلہ دیا کہ حکومت کے وہ احکامات جن کے تحت دہشت گردی کے بعض مشتبہ افراد کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں، غیر قانونی ہیں۔ اس سے ایک ہفتے قبل انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ برطانیہ کی پولیس کے لوگوں کو روکنے اور ان کی تلاشی لینے کے بعض اختیارات بھی غیر قانونی ہیں۔

برطانیہ کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ پانچ مشتبہ دہشت گردوں پر لگائی جانے مالی پابندیوں سے ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ محکمۂ خزانہ نے ان مشتبہ دہشت گردوں کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم 2006ء میں دیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ بین الاقوامی دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کو روکا جائے۔ لیکن ان احکامات پر پارلیمینٹ میں ووٹنگ نہیں ہوئی تھی اور بدھ کو برطانیہ کی سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنے دور رس اقدامات کے لیے پارلیمینٹ کی منظوری حاصل کرنا ہو گی۔ اس کے جواب میں خزانے کے ترجمان نے کہا کہ تیزی سے منظور ہونے والا قانون پیش کیا جائے گا تاکہ اثاثوں کو منجمد کرنے کے اختیارات میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔

Eric Metcalfe قانونی انسانی حقوق کے گروپ Justice کے پالیسی ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بدھ کے روز عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ برطانیہ میں جمہوری اصول کے انتہائی اہم دفاع کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ ایسی جمہوریت کی مثال ہے جو قانون کی حکمرانی کے تابع ہے۔ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ جمہوری نمائندے اس پہلو پر اچھی طرح غور کریں کہ قانون کس طرح بنائے جاتے ہیں اور یہ کہ ان کی تشکیل میں مناسب توازن قائم رکھا گیا ہے یا نہیں‘‘۔

اس کیس میں جو پانچ افراد ملوث ہیں انہیں تقریباً بیس ڈالر فی ہفتہ نقد رقم لینے کی اجازت ہے اور انہیں اپنے تمام اخراجات کے لیے خصوصی اجازت لینی پڑتی ہے۔ ان افراد پر بہت سے جرائم کا الزام ہے۔ ان میں القاعدہ کے لیڈروں سے ملنا اور پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرنا شامل ہے۔ لیکن ان پر باقاعدہ کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے انہیں سزا دی ہے۔

Metcalfe کہتے ہیں کہ یہ بات اہم ہے کہ جن لوگوں پر دہشت گردی کے جرائم کا شبہ ہو ان پر کرمنل کورٹ میں مقدمہ چلایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ’’عام طور سے میرے خیال میں فوجداری قوانین میں بہت بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ ہم اپنے کرمنل جسٹس سسٹم سے دور چلے گئے ہیں جب کہ یہ سسٹم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا سب سے زیادہ موئثر ہتھیار ہے‘‘ ۔

Nigel Inkster لندن کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز سے منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات دہشت گردی کے مشتبہ شخص پر کرمنل کورٹ میں مقدمہ چلانا ناممکن ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ’’برطانیہ میں بلا شبہ ایسے لوگ ہیں جن کے ارادے نیک نہیں ہیں لیکن وہ بڑے ہوشیار ہیں اور انہیں قانون کی حدود میں رہنے کا فن خوب آتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم انہیں اپنے فوجداری قانون کے نظام کے سامنے نہیں لا سکتے‘‘۔

دہشت گردی کے خلاف حکومت کے کئی سخت اقدامات پر عدالتوں نے حکومت کے خلاف فیصلے دیے ہیں۔ بدھ کے روز کا عدالت کا فیصلہ ان میں تازہ ترین ہے۔ گذشتہ ہفتے انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے فیصلہ دیا کہ بلا کسی معقول وجہ کے پولیس کا لوگوں کو روکنا اور ان کی تلاشی لینا غیر قانونی ہے۔

بدھ کے روز اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں انسانی حقوق کے تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں برطانوی حکومت اپنے کئی شہریوں کے ساتھ بد سلوکی اور ممکنہ اذیت رسانی میں گٹھ جوڑ کی مرتکب ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا واضح ثبوت موجود ہے کہ کئی برطانوی مسلمانوں کو بیرونی ملکوں میں خفیہ طور سے قید میں رکھے جانے میں برطانوی حکومت کا ہاتھ تھا۔

Inkster کہتے ہیں کہ 2001ء میں نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد سے اب تک برطانوی سیاست دان اور قانون ساز دہشت گردی سے موئثر طور پر نمٹنے کے لیے موزوں قانونی نظام تیار کرنے کی جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ’’ یہ بات واضح ہے کہ بعض شعبوں میں دہشت گردی سے متعلق 2001ء سے پہلے کے قوانین ناقص تھے۔ ان قوانین میں نئے حالات کو مد نظر نہیں رکھا گیا تھا اور میرے خیال میں یہ صورتِ حال اب بھی موجود ہے‘‘۔

خیال ہے کہ برطانیہ میں رہنے والے پچاس سے زیادہ افراد محکمہ خزانہ کی پابندیوں والی فہرست میں شامل ہیں۔ ان لوگوں کو پیسہ خرچ کرنے کے لیے حکومت سے اجازت کی درخواست دینی پڑتی ہے۔ کسی بھی فرد کو جو انہیں اقتصادی وسائل فراہم کرے گا قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG