رسائی کے لنکس

​​تاریخی اعتبار سے یہ چوتھا موقع ہے جب ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس کا آغازبرطانیہ کی سر زمین سے ہوا ہے برطانوی سائیکل سوار اب تک اس مقابلے میں بہت بارکامیابیاں حاصل کرتے رہے ہیں۔

دنیائے کھیل کے سائیکلنگ ریس کے سب سے بڑے مقابلے' ٹورڈی فرانس ' کا آغاز رواں برس برطانیہ سے ہوا ہے جہاں تیسرے اور برطانیہ میں ہونے والے آخری مرحلے کی ریس پیر کو کیمبرج سے شروع ہو کرمرکزی لندن پر اختتام پذیر ہوئی۔

ریس کے اختتامی لمحات میں جرمنی کی ٹیم سے تعلق رکھنے والے' مارسیل کیٹل' نےڈرامائی انداز سے اختتامی لائن عبور کرتے ہوئے ریس کےاہم ترین حریفوں سے سبقت حاصل کر لی اور تیسرے مرحلے کی جیت کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔

رواں برس ٹور ڈی فرانس کے 101 ویں سائیکلنگ ریس مقابلے کا آغاز 5 جولائی کو برطانیہ کے شہر یارکشائر سے ہوا اگلے روز دوسرے مرحلے کی ریس شیفلڈ میں اختتام پذیر ہونے کے بعد ریس کے تیسرے مرحلے کا آغاز 7 جولائی دوپہر ساڑھے بارہ بجے کیمبرج کے مقام سے ہوا۔

198 سائیکل سوراوں پر مشتمل 22 ٹیموں کا قافلہ 155 کلو میٹر کی مسافت طے کرتا ہوا شام 4 بجے لندن کے مشہور لینڈ مارک اولمپک پارک، ٹاور آف لندن، بگ بین، ہاؤس آف پارلیمنٹ اور بکنگھم پیلس سے گزر کرمال کے مقام پر اختتامی منزل تک پہنچا جس کے بعد ٹور ڈی فرانس کا قافلہ اب اپنے روایتی مرحلوں سے گزرتا ہوا فرانس میں شانزے لیزے کے مقام پر 27 جولائی کو ریس مکمل کرے گا۔

تاریخی سائیکلنگ ریس ٹور ڈی فرانس کے طے شدہ روٹ کو کلئیر رکھنے کے لیے مشرقی لندن کی سٹرکیں صبح سے ہی ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی تھیں۔ مرکزی شاہراہ 'لی برج' کے کنارے کھڑے ہزاروں افراد اپنے پسندیدہ ایتھلیٹس کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے صبح سے ہی فٹ پاتھ پر ڈیرے جمائے بیٹھے تھے جیسے ہی سہ پہر ساڑھے تین بجے ٹور ڈی فرانس کے سائیکل سوار شاہراہ پر داخل ہوئے تو لوگوں نے پر جوش انداز میں ان کا ستقبال کیا اور دل کھول کر تالیاں بجائیں لیکن یہ قافلہ انتہائی سبک رفتاری سے شاہراہ عبور کر گیا۔

مقامی ریستوران کے مالک شاہ ولید نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب انھوں نے ٹور ڈی فرانس کو دیکھا ہے اور وہ 'ٹیم اسکائی ' کے سائیکل سواروں کی جیت کے لیے دعاگو ہیں۔ "آج سڑکوں پر اتنے لوگوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی قومی تہوار ہے اس ریس کو دیکھنے کے لیے ہم ہفتوں سے انتظار کر رہے تھے۔"

نینسی پیٹر نے کہا کہ اگرچہ ٹریفک بند ہو جانے کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کے معمولات متاثر ہوئے ہیں لیکن یہ ایک یادگار موقع ہے بلکہ اس طرح کے مقابلے لندن میں سائیکلنگ کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔

تاریخی اعتبار سے یہ چوتھا موقع ہے جب ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس کا آغازبرطانیہ کی سر زمین سے ہوا ہے برطانوی سائیکل سوار اب تک اس مقابلے میں بہت بارکامیابیاں حاصل کرتے رہے ہیں۔

گذشتہ برس کی فاتح ٹیم اسکائی کے برطانوی ایتھلیٹس کرس نومی کو رواں برس بھی فیورٹ قرار دیا جارہا ہے ۔

علاوہ ازیں اٹلی کے سائیکل سوارونزونبالی سال 2014 کے اب تک کے تین مرحلوں کی ریس میں سے دو کے فاتح قرار دئیے جا چکے ہیں انھوں نے ناصرف پیلی جرسی جیت لی ہے بلکہ سائیکل ریس کی قیادت بھی حاصل کر لی ہے۔

برطانوی ایتھلیٹس بریڈ لی وگنزو نے2012 کی ریس اپنے نام کی تھی جن کے بعد اسی ٹیم کے کھلاڑی کرس فرومی نے یہ اعزاز سال 2013 میں ایک بار پھر سے جیتا۔ برطانوی ایتھلیٹس مارک کیونڈیش اس سے قبل دو ہزار نو سے دو ہزار گیارہ تک لگاتار یہ ٹائٹل حاصل کرتے رہے ہیں لیکن اس سال لیڈز کے پہلے ہی مرحلے میں زخمی ہونے کے بعد وہ ریس سے دستبردار ہو گئے ہیں۔​

لگ بھگ تین ہفتوں پر مشتمل ریس ٹور ڈی فرانس کے دوران ہر سال سائیکل سوار کو تقریباً ساڑھے تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے رواں برس سائیکل سوار مقابلے کے کل 21 مرحلے طے کریں گے اس دوران سائیکل سواروں کو شہروں بلکہ پہاڑی راستے پر مشتمل روٹ بھی طے کرنے ہوتے ہیں۔

1903 میں ٹور ڈی فرانس منعقد کرانے کا اصل مقصد اس وقت کھیلوں کے ایک اخبار'لااوٹو' کی تشہیر تھا۔ 60 سائیکل سواروں پر مشتمل ٹیم نے اکیس مرحلوں کے ساتھ اس ریس کی داغ بیل ڈالی جس نے اخبار کی اشاعت و تقسیم میں بے پناہ اضافہ کیا۔ تاہم 1930 کے بعد سائیکل سوار ایک ٹیم کے بجائے مختلف ملکوں کی ٹیموں کی حیثیت سے ٹور ڈی فرانس میں شرکت کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG