رسائی کے لنکس

زیر تعمیر عمارت واکی ٹاکی کے نام سے خاصی شہرت سمیٹ چکی ہے لیکن گاڑی پگھلنے کے واقعے کے بعد اس بلند و بالا عمارت کا نام واکی اسکریچی میں تبدیل ہوگیا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ لندن کی بلندوبالا عمارتوں کی بھیڑ میں شامل ایک زیر تعمیر فلک بوس ٹاورکی چکا چوند اسقدر بڑھ گئی ہے کہ آس پاس کے راہگیروں کے لیے راستہ چلنا دوبھر ہو گیا ہے لیکن اتنا ہی نہیں ہے گزشتہ روزاسی بلند و بالا شیشے کی عمارت سے منعکس ہونے والی سورج کی کرنوں سے ایک کھڑی لگژری گاڑی کے کچھ حصہ پگھل دیا۔
برطانوی اخبار گارڈین لکھتا ہے کہ ، فن چرچ اسٹریٹ پر زیرتعمیر 37 منزلہ ٹاور کی عمارت کی کھڑکیوں پرلگائے جانے والے شیشوں سے سورج کی الٹرابرائیٹ شعاعیں منعکس ہو کرشدید حدت کے ساتھ زمین سے ٹکرا رہی ہیں اور سہ پہر میں یہ شدت عروج پر ہوتی ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ ،525 فٹ بلند عمارت کی شکل بالائی منزلوں تک پہنچتے پہنچتے زیادہ چوڑی ہو جاتی ہے اسی لیے زیر تعمیر عمارت واکی ٹاکی کے نام سے خاصی شہرت سمیٹ چکی ہے لیکن گاڑی پگھلنے کے واقع کے بعد اس بلند وبالا عمارت کا نام 'واکی اسکریچی 'میں تبدیل ہوگیا ہے۔
لندن سے تعلق رکھنے والےمارٹن لنڈزے نے اپنی جیگوار کارعمارت کی مخالف سمت کی سڑک پر ایک گھنٹے کے لیے پارک کی تھی لیکن جب وہ واپس آئے تو ان کی گاڑی کے سائیڈ مرر،ڈیش بورڈ اورگاڑی کے اطراف کی پلاسٹک پگھل چکی تھی جبکہ جیگوار کا خاص نشان جو گاڑی کےسامنے والے حصے میں لگا ہوتا ہے وہ بھی پگھل گیا تھا۔
تعمیراتی کمپنی کی جانب سےگاڑی پگھلنے کے واقع پر لنڈزے سے معذرت کی گئی ہے اور ان کےنقصان کا معاوضہ ادا کرنے کی پیشکش کی گئی ہے ۔ لنڈزے کا کہنا تھا کہ، جب وہ واپس آئے تو انھیں گاڑی کے شیشے پر ایک پرچی ملی جس میں گاڑی کے نقصان سے متعلق بات کرنے کے لیے کہا گیا تھا .
ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی لندن میں واقع ٹاور کے آس پاس کے کاروباری حلقوں میں عمارت کی وجہ سےکافی تشویش پائی جاتی ہےجہاں اکثر دکاندار اپنی دکان کا رنگ وروغن اترنے ، ٹائل اکھڑنے اور کارپٹ جلنے جیسے واقعات پر شدید تعجب کا اظہار کر رہے ہیں وہیں ان کا کہنا ہے کہ اس روشنی میں زیادہ دیر رہنے والے انسان کی صحت کے لیے سورج کی تپش کسقدر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ، یوں معلوم ہوتا ہے جیسے عمارت پر کوئی لینس نصب ہے جس سے سورج کی روشنی دگنی ہو کر زمین تک پہنچ رہی ہے جبکہ عام حالات میں سورج کی روشنی کو برداشت کیا جاسکتا ہے لیکن شیشوں سے منعکس ہونے والی چکا چوند اورحدت دونوں ناقابل برداشت ہیں۔
تعمیراتی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلےکی سنجیدگی سے پوری طرح آگاہ ہیں ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سٹی انتطامیہ کی منظوری ملتے ہی عمارت پر ایک عارضی پردہ تان دیا جائے گا جبکہ سٹی آف لندن کی جانب سے حفظ ماتقدم کے طور پر عمارت کے اطراف کی تین پارکنگ لائنوں کو بند کر دیا گیا ہے ۔
XS
SM
MD
LG