رسائی کے لنکس

رواں برس شہزادی کیتھرین میڈیلٹن بھی دورہ نیوزی لینڈ کے دوران ہاتھوں میں لوم بینڈ سے بنا بریسلیٹ پہنے ہوئے نظر آئیں۔

کچھ دنوں پہلے تک شاید اس بات پر یقین کرنا کافی مشکل ہوتا کہ معروف سلیبرٹیز اور فلمی ستارے ایک دن ہیرے جواہرات اور سونے چاندی کے بجائے معمولی سے ربر بینڈ سے تیار کئے جانے والے زیورات کو فیشن کے طور پر استعمال کریں گے۔

برطانیہ میں ان دنوں ربر بینڈ - جنھیں یہاں 'لوم بینڈز' کہا جاتا ہے - سے بنائے جانے والے زیورات کا فیشن عروج پر ہے۔ فیشن پنڈتوں کا کہنا ہے کہ رواں برس جب شہزادی کیتھرین میڈیلٹن دورہ نیوزی لینڈ کے دوران ہاتھوں میں لوم بینڈ سے بنا بریسلیٹ پہنے ہوئے نظر آئیں تو ربر بینڈ کے زیورات نے فیشن کی ایک نئی لہر بن کرسارے برطانیہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاہی خاندان کی بہو کیٹ میڈیلٹن نے اس مڈل کلاس فیشن کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

ربر بینڈ زیورات کے فیشن کے رجحان کو شہزادہ ولیم اور شہزادی کمیلا کے بریسلیٹ نے مزید ہوا دی ہے جبکہ معروف سلیبرٹیز ملی سائرس، زین ملک، ڈیوڈ بیکھم بھی لوم بیڈ کے کریز میں گرفتار دکھائی دیتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ میری طرح آپ بھی آج سے چھ ماہ قبل تک لوم بینڈز کے نام سے ناواقف ہوں لیکن چمکتے دمکتے، دھنک کے سات رنگوں والے لچکدار ربر بینڈز اس وقت 'ٹاپ 10 سیلنگ ٹوائے' کی جگہ حاصل کر چکے ہیں۔

ایک حالیہ رورٹ کے مطابق فی الحال ایمزون کی ویب سائٹ کے 50 بیسٹ سیلنگ ٹوائے کی فہرست میں لوم بینڈز نے 41 ویں جگہ حاصل کر لی ہے جبکہ فروخت کے لحاظ سے جولائی کے مہینے میں لوم بینڈ نے ایک ملین فروخت کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

بنیادی طور پر یہ ربر بینڈز وہی ہیں جنھیں ہم اور آپ اکثر بے مقصد انگلیوں میں گھمایا کرتے ہیں یا پھر کچھ لوگ انھیں فرینڈ شپ بینڈ بنانے کے لیے بھی انگلیوں کی پوروں پر لپیٹ کر چرخی کی مانند گھمایا کرتے تھے۔ لیکن ربر بینڈز سے بریسلیٹ کی تیاری کا مرحلہ شاید کبھی اتنا آسان نہیں ہوتا اگر ملائشین انجینئر چیونگ چونگ جو مشی گن، امریکہ کے شہری ہیں ایک دن یونہی بلا اراداہ اپنی بیٹیوں کی مدد کے لیے ربر بینڈ سے بریسلیٹ کی تیاری میں شریک نہیں ہوتے۔

پیشے کے لحاظ سے ایک انجینئر ہونے کی وجہ سے چیونگ نے بریسلیٹ کی تیاری کے لیے ایک آسان حل ڈھونڈ نکالا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ اگر ربر بینڈ چھوٹا ہو اوراسےایک لکڑی یا پلاسٹک کی اسٹک کے ساتھ لپیٹا جائے اور پلاسٹک کی ایس شکل کی پن کو بطور لاک استعمال کیا جائے تو اس طرح ربر بینڈ کو باآسانی زیورات کی شکل دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے سنہ 2011 میں چھ ہزار پونڈ کی لاگت کا سرمایہ اپنے اس انوکھے خیال کو حقیقی شکل دینے کے لیے لوم بینڈز کے منصوبے پر خرچ کیا۔ ابتدا میں یہ خیال اتنا کامیاب نہیں ہوا لیکن 2012ء میں ایک امریکی ٹوائے کمپنی نے انھیں 24 لوم بینڈز کی خریداری کا آرڈر دیا۔ خوش قسمتی سے یہ بینڈز اسٹور میں صرف چند دنوں کے اندر ہی فروخت ہو گئے جس کے بعد لوم بینڈ ٹوائے کی شہرت دور دراز کے ملکوں تک میں ہونے لگی اور رفتہ رفتہ اس شوق کے سحر میں ایسے بچے اور بچیاں بھی گرفتار نظر آنے لگے جن کے بارے میں یہ سوچنا بھی محال تھا کہ آج کے دور میں ڈیجٹل دنیا تک رسائی رکھنے والے بچے معمولی سے ربر بینڈ کے شوق میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔

ان دنوں اسکول کے بچوں کے ساتھ ساتھ بالغان کی جانب سے بھی اپنائے جانے والے لوم بینڈز کے فیشن کو دیکھتے ہوئے مارکیٹ میں لوم بینڈز سے تیار کردہ ہنڈ بیگز، والٹ، کی چین، بریسلٹ، ہار، بندے اور انگوٹھی، بیلٹ سبھی کچھ آسانی سے دستیاب ہیں۔

جبکہ 20 پینس میں خریدے جانے والے ربر بینڈ کا پیکٹ ان دنوں لوم بینڈز کے پیکٹ کی صورت میں ایک سے ڈھائی پونڈ میں فروخت ہو رہا ہے۔

ہیلن رائٹ اور ان کی سہیلی نے 'ویلز آن لائن' کو بتایا کہ انھوں نے اپنی بے روزگار سہیلی کی مدد کے خیال سے لوم بینڈز کا ایک ڈریس تیار کیا، چار سالہ بچی کے اس ڈریس کو انھوں نے جب 'ای بے' کی ویب سائٹ پر نیلامی کے لیے فروخت کیا تو انھیں اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ محض چند گھنٹوں میں اس ڈریس کو خریدنے کے لیے ہزاروں کی بولی لگائی جا سکتی ہے۔

ہیلن رائٹ کے اس انوکھے خیال کے بعد آئے دن لوم بینڈز سے تیار کئے جانے والے ملبوسات آن لائن فروخت کے لیے پیش کر رہی ہیں۔

لوم بینڈز سے تیار شدہ ملبوسات کی خریداری کی حوصلہ افزائی بعض خیراتی اداروں کی جانب سے بھی کی جارہی ہے۔ حال ہی میں کینسر ریسرچ کی مہم میں چندہ حاصل کرنے کے لیے لوم بینڈ کا ایک مردانہ سوٹ نیلامی کے لیے پیش کیا گیا۔

لندن کے اخبار 'میٹرو' کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ تین برسوں میں لوم بینڈ کے موجد چیونگ چونگ نے 80 ملین پونڈ کا منافع کمایا ہے جبکہ ان دنوں لوم بینڈ کا جادو بچوں اور بڑوں سبھی کے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG