رسائی کے لنکس

صحت چاہتے ہیں تو نمک کم استعمال کریں


عالمی ادارہ ِ صحت کا کہنا ہے کہ اپنی زندگی میں نمک کم کرنے سے فالج، دل کی بیماریوں اور گردوں کے ناکارہ ہو جانے جیسے کئی امراض سے بچاؤ ممکن ہے۔

سات اپریل کو دنیا بھر میں صحت کا عالمی دن منایا جائے گا۔ اس برس صحت کے عالمی دن پر بلند فشار ِ خون پر بات کی جائے گی۔

عالمی ادارہ ِ صحت کے مطابق ہر برس دنیا بھر میں تقریبا ایک ارب افراد ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشار ِ خون کی شکایت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ بلند فشار ِ خون بہت سے لوگوں میں معذوری اور اموات کا سبب بھی بنتا ہے۔ اسی لیے ہائی بلڈ پریشر کو ’خاموش قاتل‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ماہرین ِ صحت کہتے ہیں کہ ان مسائل سے خوراک میں نمک کی مقدار کم کرکے نمٹا جا سکتا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ خوراک میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھانے پر بھی زور دیتے ہیں۔

پروفیسر گراہم میک گریگر لندن سکول آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری سے منسلک ہیں۔ وہ خون اور دل کی شریانوں کے متعلق پڑھاتے ہیں۔ ان کے الفاظ، ’’جب آپ نمک کی زیادہ مقدار استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کے جسم میں جذب ہو جاتا ہے۔ یوں آپ کو پیاس زیادہ لگتی ہے اور جسم میں خون کی مقدار بھی تھوڑی سی بڑھ جاتی ہے۔ اور یہی چیزیں ہائی بلڈ پریشر کی وجہ بنتی ہیں۔‘‘

ماہرین ِصحت کہتے ہیں کہ انسانی جسم کو نمک کی ضرورت سے انکار نہیں۔ لیکن ماہرین کے نزدیک ایک انسان کو دن میں تقریبا آدھ گرام نمک سے زیادہ کی ضرورت نہیں۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں عموما ایک عام انسان دن میں تقریبا آٹھ سے دس گرام تک استعمال کرتا ہے۔

پروفیسر گراہم میک گریگر کے الفاظ، ’’ہمیں دن میں جتنے نمک کی ضرورت ہے ہم اس سے تقریبا بیس گنا زیادہ نمک کھاتے ہیں۔‘‘

آج کل کے زمانے میں بازار میں ملنے والے کھانوں کے ڈبوں میں بھی نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ بلکہ ڈبے میں بند اس خوراک کو دیر تک محفوظ رکھنے کے لیے اس میں نہ صرف نمک بلکہ چینی کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ خوراک انسانی صحت کے لیے موزوں نہیں کیونکہ اس میں غذائیت کم ہوتی ہے۔
XS
SM
MD
LG