رسائی کے لنکس

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گُل سپرد خاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ مری میں تھے کہ ہفتہ کو دیر گئے ان کے دماغ کی شریان پھٹ جانے کے بعد انھیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گل کو اتوار کی شام راولپنڈی کے فوجی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ مری میں تھے کہ ہفتہ کو دیر گئے ان کے دماغ کی شریان پھٹ جانے کے بعد انھیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی عمر 79 سال تھی۔

حمید گل نے 1957ء میں پاکستانی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور بھارت کے خلاف لڑی جانے والی 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں حصہ لے چکے تھے۔

وہ آئی ایس آئی کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس اور ملٹری آپریشنز کے عہدوں پر بھی فائز رہ چکے تھے۔

1979ء میں سوویت یونین کی فوجوں کی افغانستان میں مداخلت کے بعد افغان مجاہدین کے ذریعے محاذ قائم کرنے میں ان کا بہت اہم کردار رہا جسے خاصا سراہا جاتا رہا۔

انھوں نے 1992ء میں فوج سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

وہ امریکہ اور بھارت مخالف جذبات کا کھل کر اظہار کرتے تھے جس پر بعض حلقوں میں ان پر خاصی تنقید بھی ہوتی رہی۔

دفاعی امور کے سینیئر تجزیہ کار اکرام سہگل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حمید گل کے خیالات سے بہت سے لوگوں کو اختلافات ضرور تھا لیکن ان کی خدمات پر لوگ انھیں احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

حمید گل کے انتقال پر صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف سمیت ملک کے سیاسی حلقوں کی طرف سے افسوس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG