رسائی کے لنکس

پھپھڑوں کے کینسر کی تشخیص میں پیش رفت

  • ودوشی سنہا
  • رضانقوی

پھپھڑوں کے کینسر کی تشخیص میں پیش رفت

پھپھڑوں کے کینسر کی تشخیص میں پیش رفت

ماہرین کے ایک جائزے کے مطابق دنیا بھر میں پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ سے ہر سال پندرہ لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً چودہ لاکھ پاکستانیوں میں اس موذی مرض کی تشخیص ہوتی ہے ۔ طبی سائنس اور تحقیق سے منسلک کئی امریکی تحقیقی ادارے کوئی ایسا طریقہ ِ علاج ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے اس موذی مرض کی جلد تشخیص ہونے میں مدد مل سکے۔تاکہ بروقت علاج سے مریض کو موت کے لقمہ اجل بننے سے بچایا جاسکے۔

اس سلسلے میں ایک نئی مشین تیار کی گئی ہے جو سانس میں موجود مختلف مختلف کیمیائی مادوں کا پتا لگاتی ہے۔ ڈاکٹر پیٹرمازون کہتے ہیں کہ ہم سب کے سانس میں کیمیائی مادے موجود ہوتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں کو کینسر ہوتا ہے ان کے سانس میں موجود کیمیائی مادے مختلف ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر پیٹر مازون کینسر کے منسلک سانس میں کیمیائی مادوں پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ تھے۔ انہوں نے ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ کے کلیولینڈ کلینک میں 200 سے زائد افراد کے سانسوں کا تجزیہ کیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 92 افراد پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا تھے جبکہ کئی ایک میں اس مرض کے نمایاں امکانات موجودتھے۔

ان کا کہناتھا کہ ہمیں معلوم ہوا کہ کسی بھی انسان کے سانس کا تجزیہ کرکے اس میں پھیپھڑوں کے کینسر کی 80 سے 85 فیصدتک درست تشخیص کرنا ممکن ہے۔

ڈاکٹر مازون کا کہناہے کہ کا کہنا ہے کہ سانس کے تجزئیے سے انسانی جسم میں کینسر کے بارے میں خاصی معلومات اکٹھی کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر آخری مراحل والے کینسر کے مریضوں کے سانس کی نوعیت ان مریضوں سے مختلف تھی جن کا کینسر ابتدائی مرحلے میں تھا۔

لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ عام لوگوں کے لیے سانس کے ٹیسٹ کی سہولت مہیا کرنے سے پہلے اس پر ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔

مستقبل میں یہ ٹیسٹ مریضوں کے لیے عام چیک اپ کے دوران استعمال کیا جا سکے گا تاکہ ابتدائی مراحل میں کینسر کی تشخیص ممکن بنائی جا سکے۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ سانس کے تجزئیے کے اس ٹیسٹ کےساتھ ساتھ کیٹ سکین جیسے دیگر ٹیسٹوں کی مدد سے ڈاکٹرز مریضوں میں معمولی اور مہلک ٹیومرز کی تشخیص بھی کر سکیں گے، جس سے مریض کا علاج جلد شروع کرنا ممکن ہو سکے گا۔

XS
SM
MD
LG